موبائل سے موت کا وائرس یا افواہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے مختلف علاقوں سے جمعہ کے روز ایس ایم ایس اور فون کالز کے ذریعے لوگوں کو خبردار کیا جاتارہا کہ وہ کسی بھی نامعلوم یا ایک مخصوص نمبر سے فون وصول نہ کریں کیونکہ اس سے موت کا باعث بننے والی وائرس یا ریز نکلتی ہیں۔ پاکستان میں موبائل کمپنی موبی لنک کے فیصل امتیاز نے بی بی سی کو بتایا کہ موبائل فون پر گشت کرنے والے ان پیغامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نےپیغام میں نقصان پہنچانے والے نمبروں پر فون بھی کیے لیکن انہیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ موبائل کمپنی یو فون کے ایک اہلکار عاطف منیر نے اس قسم کے پیغامات کو ایک افواہ قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں تمام موبائل کمپنیوں نےمشترکہ طور پر ایک بیان بھی جاری کیا جس میں اس افواہ کی تردید کی گئی ہے۔ بعض ایسی افواہیں بھی پھیلی ہیں کہ سیالکوٹ میں ایک شخص کی موت اس وقت واقع ہوئی جب وہ موبائل فون پر بات کرنے میں مصروف تھے۔اس شخص کے ایک ساتھی نواز نے بی بی سی کو بتایاکہ لوگوں نے افواہ پھیلا کر اس شخص کی موت کومذاق بنا دیا ہے۔نواز کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ موبائل وائرس ان کے موت کا مؤجب بنی ہو۔ سیالکوٹ میں تھانہ حاجی پورہ کےایک اہلکارنعیم احمد نے موبائل وائرس سے ہونے والی ہلاکت سے لا علمی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ افواہ شیخو پورہ سے اڑ کرآئی ہے۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ پہلے بھارت میں بھی اسی قسم کی افواہوں کا سلسلہ چل نکلا تھا جس سے بھارت کی موبائل کمپنیوں کو سخت خسارے کا سامنا کرنا پڑالیکن پولیس کی تحقیقیات کے بعد یہ ایک افواہ ثابت ہوئی۔ | اسی بارے میں پاکستان کے اصل موبائل صارفین23 November, 2006 | پاکستان ’موبائل نیٹ ورک، اب مسئلہ نہیں‘30 March, 2007 | پاکستان انٹرنیٹ، ٹیلی فون سروسز میں تعطل16 March, 2007 | پاکستان پاک موبائل:پہلا غیر ملکی سودا22 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||