BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 March, 2007, 05:55 GMT 10:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’موبائل نیٹ ورک، اب مسئلہ نہیں‘

موبائل نیٹ ورک (فائل فوٹو)
ملک میں موبائل صارفین کی تعداد پانچ کروڑ بیس لاکھ سے زائد ہے (فائل فوٹو)
موبائل فون کمپینوں کے اعداد و شمار کے مطابق صرف چند سو افراد ہی چھبیس مارچ سے شروع ہونے والی موبائل نمبر پورٹیبلٹی یا ’ایم این پی‘ کی سہولت کے تحت موبائل فون کے ایک سے دوسرے نیٹ ورک پر گئے ہیں۔

پاکستان جنوبی ایشیاء کا وہ واحد ملک ہے جہاں موبائل صارفین کے لیے موبائل نمبر پورٹیبلٹی یا ’ایم این پی‘ کی سہولت شروع کی گئی ہے۔ اس سہولت کے بعد پاکستان بھر میں موبائل فون کے صارفین اپنا فون نمبر تبدیل کیے بغیر ایک سے دوسرے نیٹ ورک پر جا سکیں گے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت موبائل صارفین کی تعداد پانچ کروڑ بیس لاکھ سے زائد ہے۔

پاکستان میں کام کرنے والی ایک بین الاقوامی موبائل کمپنی کے تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر سید حسنات مسعود کا موبائل پورٹیبلٹی کے بارے کہنا تھا کہ اس سے ملک بھر میں کام کرنے والی موبائل کمپنیوں میں مقابلے کا رحجان بڑھے گا کیونکہ اب اس سہولت کے بعد موبائل استعمال کرنے والوں کو یہ سہولت حاصل ہو گئی ہے کہ وہ اپنا موجودہ نمبر برقرار رکھتے ہوئے کسی بھی نیٹ ورک پر جا سکتے ہیں۔

حسنات مسعود کا کہنا تھا کہ یہ سہولت ہے تو سب کے لیے ہی فائدہ مند، لیکن خاص طور پر اس کا فائدہ اُن لوگوں کو ہو گا جنہوں نے موبائل نمبر اپنے بزنس کارڈز اور دوسرے دفتری کاغذات پر چھپوا رکھے ہوتے ہیں اور اُنہیں یہ ڈر ہوتا تھا کہ اگر اُنہوں نے اپنا نمبر تبدیل کیا تو نہ صرف اُنہیں پھر سے اپنا نیا نمبر اپنی دستاویزات پر چھپوانا پڑے گا بلکہ یہ خدشہ بھی ہوتا ہے کہ نمبر کی تبدیلی کے بعد بعض لوگوں سے رابطہ ختم ہو جائے گا، لیکن اب اس سہولت کے بعد اس طرح کے خدشات بھی ختم ہو گئے ہیں۔

ایک پاکستانی موبائل فون کمپنی سے منسلک بلال اسلم کا کہنا تھا کہ ایم این پی کی سہولت کے بعد موبائل کمپنیوں کو اپنے موجودہ صارفین کو برقرار رکھنے کے لیے نہ صرف بہتر سہولیات دینا ہونگی بلکہ اپنے موجودہ نیٹ ورک کو بڑھانا بھی ہو گا۔

صارفین کی سہولت
 اس سہولت کی وجہ سے ملک بھر میں کام کرنے والی موبائل کمپنیوں میں مقابلے کا رحجان بڑھے گا کیونکہ اب موبائل استعمال کرنے والوں کو یہ سہولت حاصل ہو گئی ہے کہ وہ اپنا موجودہ نمبر برقرار رکھتے ہوئے کسی بھی نیٹ ورک پر جا سکتے ہیں
سید حسنات مسعود

موبائیل کمپنیوں کے مطابق اگر کوئی ایم این پی کی سہولت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اگر کوئی اپنا نیٹ ورک تبدیل کرنا چاہے تو مکمل طور پر ایک سے دوسرے نیٹ پر جانے میں چار دن لگیں گے لیکن اس دوران صارف اپنے پرانے نیٹ پر ہی رہے گا۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اور ملک بھر میں کام کرنے والی چھ کمپنیوں نے ایک ضابطہ اخلاق بھی بنایا ہے جس کے تحت اگر کوئی موبائل صارف اپنا نیٹ ورک تبدیل کرتا ہے تو وہ کم از کم ساٹھ دن کے بعد ہی وہ دوبارہ کسی دوسرے یا پہلے والے نیٹ ورک پر جا سکے گا۔ لیکن موبائل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ وقت کم ہونے کی توقع ہے۔

ٹیلی کام سیکٹر میں کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ یہ کہنا تو قبل از وقت ہو گا کہ ایم این پی کے آنے سے موجودہ صارفین میں بہت زیادہ تبدیلی آ جائے گی لیکن ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک اکثریت اس بات سے متفق ہے آئندہ آنے مہینوں اور سالوں میں ایم این پی سے نا صرف موبائل صارفین کو فائدہ ہو گا بلکہ وہ موبائل فون کمپنیاں جو صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کریں گی، اُن کے کاروبار کے لیے بھی ایم این پی اُتنی ہی اہم ثابت ہو گی۔

پاکستان میں کام کرنے والی بین الاقوامی اور قومی موبائل فون کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ ماہ سے موبائل فون صارفین تک’ایم این پی‘ کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے ایک اشتہاری مہم شروع کریں گی، جس کے بعد اُنہیں توقع ہے کہ اس سہولت سے فائدہ اُٹھانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔

موبائیل فونموبائل کی بھر مار
پاکستان میں موبائل فونز کی تعداد پونے دو کروڑ
موبائل کے صارفین
پاکستان میں چھوٹے بڑے سب برابر
اسی بارے میں
موبائل فون کی بھرمار
23 May, 2005 | پاکستان
موبائل چوری پکڑی جائے گی
21 November, 2004 | پاکستان
موبائل فون اور کراچی
19 May, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد