BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 April, 2004, 03:06 GMT 08:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر میں موبائل فون کی سہولت

 کشمیر میں موبائل فون کی سہولت
اب تک پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کا علاقہ اس سہولت سے محروم تھا
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پہلی مرتبہ موبائل فون کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔

کشمیر کے لوگ کافی عرصہ سے اس کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن پاکستانی حکام یہ کہتے تھے کہ سیکورٹی کی وجوہات کی بنا پر اس علاقے میں یہ سہولت فراہم نہیں کی جا سکتی۔

اب تک بھارت اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے اس سہولت سے محروم تھے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ سال موبائل فون سروس شروع کی گئی جبکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں اب یہ سہولت فراہم کردی گئی ہے۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں عام ٹیلیفون کےکنکشن کم ہیں۔ کئی علاقے ایسے ہیں جہاں یا تو سرے سے ٹیلی فون کی سہولت نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو کافی محدود پیمانے پر ہے۔

مظفر آباد سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع نملی سیداں بھی ایک ایسا ہی دیہات ہے جہاں کے لوگ آج بھی زمینی ٹیلیفون کی سہولت سے محروم ہیں۔ اس دیہات کے چند لوگوں کو بھی موبائل فون کا کنکشن ملا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب ’ہم رشتہ داروں اور اقرباء سے رابطے رکھ سکیں گے اور ہمیں کاروبارِ زندگی میں بھی سہولت ہوگی۔‘

فون سنٹر
ابتدائی طور پاک فوج کا ادارہ سپیشل کمیونیکیش آرگنائزیشن موبائل فون کی سہولت فراہم کر رہا ہے
یہ سروس پاکستانی فوج کا ادارہ سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن یعنی ’ایس سی او‘ مہیا کر رہا ہے۔ اور یہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مواصلاتی سہولت فراہم کرنے والا واحد ادارہ ہے ۔

اس ادارے کے مقامی کمانڈنگ آفسیر بریگیڈیر کمانڈر ہمایوں مسعود نے کہا کہ ابتدا میں یہ سہولت دو بڑے شہروں مظفرآباد اور میرپور میں شروع کی گئی ہے لیکن بعد میں یہ سہولت کشمیر کے اس علاقے کےدوسرے اضلاع میں بھی متعارف کرائی جائے گی۔ ان کے کہنے کے مطابق اس مرحلے میں دونوں شہروں میں پانچ ہزار کنکشن دیئے جا رہے ہیں۔

اب جبکہ یہ سہولت فراہم کی گئی ہے تو سوال یہ ہے کہ یہ سہولت لوگوں کے لیے کس قدر مفید ہو سکتی ہے؟

ٹیلی مواصلات کی ایک ماہر انیس دین انور نے کہا کہ اس علاقے میں موبائل فون سروس شروع کرنا ایک اچھا قدم ہے کیونکہ یہ علاقہ جدید ٹیکنالوجی کی سہولت سے اب تک محروم تھا۔

لیکن ان کا کہنا تھا یہ سہولت اتنی زیادہ سود مند نہیں ہو گی کیونکہ اس کی کوریج بہت محدود ہے اور جن دو شہروں کو یہ سہولت دی گئی ہے وہاں یہ صرف پندرہ کلومیٹر کے علاقے میں موبائل فون استعمال کیا جا سکتا ہے۔

فون سنٹر
محدود افادیت کے باوجود لوگ بڑی تعداد میں موبائل فون کنیکشن خرید رہے ہیں
انہوں نے کہا اس میں رومنگ کی سہولت نہیں اور یہ موبائل فون کشمیر کے دوسرے علاقوں اور پاکستان میں استعمال نہیں کیا جا سکتا جبکہ یہاں کے لوگوں کا زیادہ تر کاروبار کے سلسلے میں پاکستان کے شہروں میں آنا جانا رہتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس میں پیغام رسانی کی سہولت بھی موجود نہیں ہے اور نہ ہی صارف کو یہ سہولت میسر ہے کہ وہ پری پیڈ یا پوسٹ پیڈ میں کسی ایک کا انتخاب کرے کیونکہ اس میں صرف پری پیڈ کی ہی سہولت موجود ہے۔

انیس انور نے مزید کہا کہ اگر صارف کو یہ سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تونہ صرف اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس کی افادیت بھی بڑھ سکتی ہے۔

’ایس سی او‘ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ سہولیات صارفین کو جلدی فراہم کی جائیں گی۔ البتہ یہ پابندی فی الحال برقرار رہے گی کہ موبائل فون سے بھی زمینی فون کی طرح بھارت اور اس کے زیرانتظام کشمیر میں برائے راست فون نہیں کیا جا سکے گا۔

تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ پابندی کب اٹھےگی۔ البتہ اُن کا کہنا تھا کہ یہ پابندی ختم کرنے کا فیصلہ حکومت پاکستان ہی کر سکتی ہے اور ممکن ہے کہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر آئندہ یہ بھی اٹھا لی جائے اور منقسم کشمیر خاندان آپس میں آسانی سے رابطہ قائم رکھ سکیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد