بلاگرز کی شناخت کا منصوبہ ترک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چینی حکومت نے چین کے بلاگرز کی جانب سے شدید احتجاج کے بعد بلاگرز کے اصل نام رجسٹر کرنے کا منصوبہ ترک کر رہی ہے۔ چین میں اس وقت دو کروڑ سے قریب افراد بلاگ لکھتے ہیں اور حکومت کے اس فیصلے سے ملک بھر میں انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ حکومت کا موقف تھا کہ اصلیت ظاہر کرنے سے بلاگرز میں اپنے خیالات کے پرچار کے حوالے سے احساسِ ذمہ داری پیدا ہوگا۔ جبکہ چینی بلاگرز نے اسے حکومت کی جانب سے معلومات پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔ چین میں اکثر ان ویب سائٹس کو بلاک کر دیا جاتا ہے جن پر شائع شدہ نطریات حکومتی نظریات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ چینی بلاگرز میں حکومت کے موقف کے حامی افراد بھی موجود ہیں۔ چین کے مشہور بلاگرز میں سے ایک پنگ کی نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کا منصوبہ بہتری کی جانب ایک اچھا قدم ہے۔’ وہ زبردستی نہیں کر رہے بلکہ تجویز دے رہے ہیں اور لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ وہ ایسا کریں‘۔ اس کے برعکس ایک اور مشہور بلاگر وانگ ڈیو فینگ کا کہنا ہے کہ’میں اصل نام کی جگہ بری زبان استعمال کرنے کو ترجیح دیتا ہوں‘۔ انہوں نے کہا’ غیر مہذب پن انٹرنیٹ کی ایک خصوصیت ہے۔ ہم غیرمہذب ہیں اور انٹرنیٹ اس حقیقت کا عکاس ہے‘۔ یاد رہے کہ بلاگنگ نے چین میں لوگوں کے لیے معلومات کی فراہمی کے ذریعے کی صورت اختیار کر لی ہے اور مقبول بلاگز کو روزانہ لاکھوں لوگ پڑھتے ہیں۔ | اسی بارے میں ویب ٹو: میڈیا برائے عوام15 February, 2007 | نیٹ سائنس 06: انٹرنیٹ صارفین اور سنسر شپ کا سال31 December, 2006 | نیٹ سائنس انٹرنیٹ پر آزادیِ اظہار کو خطرہ 28 October, 2006 | نیٹ سائنس نیٹ آزادی: ایمنسٹی کی مہم28 May, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||