BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 February, 2007, 00:50 GMT 05:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ویب ٹو: میڈیا برائے عوام

یوٹیوب ایک عوام وڈیو فورم کے طور پر کامیاب رہا ہے
ویب ٹو یا ویب دوم جسے انٹرنیٹ کے دوسرے جنم سے تشبیہ دی جاتی ہے انٹرنیٹ کا ایک ایسا معاشرتی و سماجی روپ ہے جہاں سوشل نیٹورکنگ، وکی اور انٹرنیٹ وڈیو، ویب سائٹس اور بلاگز جیسے دیگر مواصلاتی ذرائع کے وسیلے سے انٹرنیٹ صارفین کے درمیان معلومات، خیالات، تجربات اور دیگر موضوعات کے بارے میں تبادلۂ خیال اور معلوماتی اشتراک کو فروغ دیا جاتا ہے۔

ایسی ہی سوشل ویب کا ایک محاصل سٹیزن جرنلزم یعنی عوامی صحافت اور ویب ویڈیو سائٹس ہیں۔ سٹیزن جرنلزم کا عام مفہوم کسی پیشہ ور صحافی کے بجائے عوام کا خبریں اور معلومات اکٹھا کرنا اور ان کی تشہیر کر کے صحافیانہ خدمات انجام دینا سمجھا جاتا ہے۔

یوں تو صحافت کے روایتی نمونوں میں بھی قارئین کی شمولیت خطوط، تجاویز اور آراء کا ذریعہ رہی ہے تاہم انٹرنیٹ پر بلاگز، وکیز اور ویب وڈیو کی ترسیل کرنے والی ویب سائٹس نے نہ صرف عوامی صحافت کو نئے حدود پر استوار کیا ہے بلکہ اسے ویب ٹو کے نام سے جانے جاننے والے انٹرنیٹ کے اوتار کا اہم جز بنا دیا ہے۔

عراق کے معزول صدر صدام حسین کے موبائل فون کے کیمرے سے محفوظ کیے جانے والے آخری لمحات کی انٹرنیٹ پر تشہیر نے روایتی خبر رساں اداروں اور نیوز چینلز کے مقابل انٹرنیٹ کی متوازی حیثیت کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پھانسی کی سرکاری وڈیو نشر ہونے کے بعد اس بند کمرے میں ہونے والا یہ واقعہ جب صوتی اثرات کے ساتھ موبائل کیمرے کی آنکھ سے فلم بند ہوکر انٹرنیٹ کی وساطت سے موبائل فونز، ویب سائٹس اور پھر ٹی وی سکرینز تک پہنچا، اس کے بعد کیا کیا ہوا یہ آپ سب جانتے ہیں۔

صدام حسین کی پھانسی کی وڈیو
 عراق کے معزول صدر صدام حسین کے موبائل فون کے کیمرے سے محفوظ کیے جانے والے آخری لمحات کی انٹرنیٹ پر تشہیر نے روایتی خبر رساں اداروں اور نیوز چینلز کے مقابل انٹرنیٹ کی متوازی حیثیت کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
تاہم اس بحث سے قطع نظر کہ آیا یہ موبائل وڈیو عوامی صحافت کے زمرے میں آتی ہے یا پھر یہ ایک سوچا سمجھا قدم تھا، اس واقعہ نے ٹیکنالوجی کے استعمال اور اس کے اثرات کو عوام اور صحافیانہ حلقوں پر یکساں عیاں کر دیا۔ سی این این اور دیگر حلقوں میں تو یہ موبائل وڈیو عوامی صحافت کے لیے مشعل راہ تصور کی جانے لگی۔

اس موبائل وڈیو نے باور کردیا کہ ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں اب کوئی بھی شخص، کہیں سے بھی، کسی بھی واقعہ کا آنکھوں دیکھا حال نہ صرف بلاگز پر بیان کرسکتا ہے بلکہ اسے موبائل کیمرہ فون یا دیجیٹل وڈیو کے ذریعہ محفوظ کر کے انٹرنیٹ پر اسے با آسانی تشہیر بھی کرسکتا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق گزشتہ سال کے آخر تک ملک میں موبائل فون صارفین کی تعداد پینتالیس ملین کے لگ بھگ تھی۔ ان موبائل صارفین میں ایک معقول تعداد ان باشعور افراد کی بھی ہے جو کیمرہ فون کے مالک ہونے کے ساتھ انٹرنیٹ کے استعمال سے بھی آشنا ہیں۔ تو پھر مقامی سطح پر مذکورہ بالا ذرائع کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ؟

یہی جاننے کے لیے انٹرنیٹ پر صارفین کی وڈیوز شائع کرنے وا لی مشہور ویب سائٹ یو ٹیوب کا پاکستان کے متعلق شائع کردہ وڈیو مواد کا جائزہ لیا تو اس ویب سائٹ پر کراچی کے ٹریفک جیم میں پھنسے اکتائے ہوئے لوگوں کی موبائل فون سے فلم بند کیے گئے مناظر سے لیکر شادی بیاہ، تعلیمی اداروں کی سالانہ غیرتدریسی تقریبات، سٹریٹ ریسنگ، ماہ محرم میں زنجیر زنی، عیدالاضحیٰ پر قربان ہو تے ہوئے جانوروں کی وڈيو کلپس و‏غیرہ ملے۔

انفرادی یا ذاتی طور پر تیار کردہ مقامی آن لائن وڈیو مواد سے زیادہ یو ٹیوب پر پاکستانی ٹیلی وژن چینلز پر نشر کیے جانے والے حالات حاضرہ، کرکٹ اور تفریحی پرگراموں کے وڈیو کلپس ملے۔

اس رجحان کو دیکھتے ہوئے تو یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں روایتی الیکٹرونک میڈیا کی تاثیر اس قدر بڑھ گئی ہے کہ یوٹیوب جیسے عوامی آن لائن وڈیو فورم پر صارفین اپنا تیار کردہ وڈیو مواد پیش کرنے سے زیادہ روایتی میڈیا کو ترجیح دے رہے ہیں۔

صحافی مرزا خرم بیگ کے خیال میں آگے چل کر پاکستان میں بھی انٹرنیٹ بلاگز کے علاوہ عوامی صحافت کے کسی اور روپ کے طور پر کام آسکتا ہے۔
اس صورتحال میں پاکستان میں انٹرنیٹ کے عوامی صحافت کامؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال ہونے کے کیا امکانات ہیں؟ ایک نجی ٹی وی نیوڑ چینل سے منسلک صحافی مرزا خرم بیگ کے خیال میں: ’مغرب میں عوامی صحافت کا تصور کافی حد تک عام ہے پر پاکستانیوں کے لیے یہ چیز نسبتا اجنبی ہے۔ صدام حسین کی پھانسی کی موبائل وڈیو کلپ کے نشر ہوجانے کے بعد عین ممکن ہے کہ ہمارے ہاں بھی لوگوں کو یہ خیال آئے کہ وہ بھی ایک موبائل کیمرہ فون کی مدد سے کسی واقعہ کی وڈیو بنا کر کسی خبر رساں ادارے کو بھیج سکتے ہیں۔‘

’پر ابھی پاکستانی صارفین انٹرنیٹ سے وابسطہ دیگر مواصلاتی امکانات کو پرکھ رہے ہیں۔ انٹرنیٹ پر نشر ہونے والا مقامی ذاتی وڈیو مواد کا عمومی مقصد تفریح ہی ہوتا ہے تاہم ممکن ہے کہ صارفین آگے چل کر بلاگز کے علاوہ انٹرنیٹ کو عوامی صحافت کے کسی دوسرے روپ کے طور پر بروئےکار لائیں۔‘

جہاں تک تفریح کی بات ہے تو یو ٹیوب مقامی سطح پر انٹرنیٹ شوقیہ گلوکار، فنکار، مزاحیہ اداکار اور انڈرگراؤنڈ میوزک بینڈز کی وڈیوز نشر کرنے کا کم خرچ اور آسان وسیلہ بن گیا ہے۔

سمیع شاہ ٹی وی صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ سٹینڈ اپ کامیڈین بھی ہیں اور اپنے مزاحیہ شوز کے وڈیو کلپس یو ٹیوب پر وقتاًفوقتا نشر کرتے رہتے ہی‍ں۔ سمیع شاہ کے مطابق: ’اپنے شوکی آن لائن وڈیو کلپس نشر کرنے سے یہ میرے بیرون ملک مقیم ناظرین کی رسائی میں ہوجاتی ہیں اور شائقین میرے بلاگ کے ذریعے اآئندہ ہو نے والے شوز کے بارے میں باخبر رہتے ہیں۔‘

سمیع شاہ کہتے ہیں: ’جہاں تک انٹرنیٹ کے وسیلے سے عوامی صحافت کی بات ہے تو میرے خیال میں یہ ان ممالک میں زیادہ کامیاب رہی ہے جہاں انگریزی یا کوئی ایک زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان میں سب لوگ انگریزی پڑھ اور سمجھ نہیں سکتے اور یہاں پر ایک سے زائد مقامی زبانیں رائج ہیں۔ یوں انٹرنیٹ کے عوامی صحافت کا وسیلے ہونے کی افادیت کم ہو جاتی ہے۔‘

’اس کی دوسری رکاوٹ ہماری شرح ناخواندگی ہے۔ فرض کریں اگر کوئی خبر پہلے کسی مشہور بلاگ پر شائع ہو بھی جاتی ہے تو اس کی اہمیت اس وقت تک اجاگر نہیں ہوتی جب تک روايتی میڈیا اس بات یا واقعہ کی طرف عوام کی توجہ مبذول نہ کروائے۔ اس کی ایک وجہ ہمارے ملک میں روایتی خبر رساں میڈیا کی بنسبت انٹرنیٹ کا پہنچ اتنی وسیع نہیں ہے۔‘

عمومی طور پر دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے کہ جہاد سے لے کر فحش مواد تک اب انٹرنیٹ پر وڈیو کی صورت میں دستیاب ہے۔ مختصرا یہ کہ وہ تمام موضوعات جن کی کوریج کی ٹیلی وژن اور روایتی میڈیا چینلز پر ممانعت ہے وہ سب کچھ اب انٹرنیٹ پر تصویروں اور الفاظ کی بندش سے نکل کر اب آن لائن وڈیو کلپس کی شکل میں موجود ہے۔

تاہم فی الحال مقامی سطح پر تو ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی انٹرنیٹ صارفین کے لیے آن لائن وڈیوز محض تفریح کا ذریعہ ہیں مگر مستقبل قریب میں یہ شغف کیا روپ دھارے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

سکینڈ ہینڈ کمپیوٹر ریبا کی ڈائری
پاکستان، آئی ٹی اور دیسی کیبل انٹرنیٹ
ریبا شاہد کی ڈائری
براڈ بینڈ کنکشن کے نرخوں میں کمی
ریبا شاہدریبا کی ڈائری
لاہور میں رورل وائرلیس کنیکٹوٹی کانفرنس
ریبا کی ڈائری
06: سنسر شپ اور انٹرنیٹ صارفین کا سال
ریبا شاہددوستی کروگی؟
سوشل نیٹ ورکنگ پر ریبا کی ڈائری
ریبا شاہدریبا کی ڈائری
آئی ٹی سی این کی چھٹی نمائش
ریبا کی ڈائری
انٹرنیٹ پر پاکستانی خواتین کی مصروفیات !!
اسی بارے میں
جنسی ویب سائٹس:علیحدہ پتہ
02 June, 2005 | نیٹ سائنس
آن لائن خریداری کے10 سال
04 September, 2005 | نیٹ سائنس
محبت کی آن لائن تلاش بڑہ گئی
13 February, 2006 | نیٹ سائنس
ہم کہاں ہیں؟
05 February, 2006 | نیٹ سائنس
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد