BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 November, 2006, 04:01 GMT 09:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رورل وائرلیس کنیکٹوٹی کانفرنس

رورل وائرلیس کنیکٹوٹی کانفرنس
رورل وائرلیس کنیکٹوٹی کانفرنس کے مقررین میں ملکی اور غیر ملکی مندوبین شامل تھے
انفارمیشن ٹیکنالوجی( آئی ٹی) کو افرادی اور اقتصادی ترقی کا معاون تسلیم کرتے ہوئے حکومتی سطح پر ملک میں انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے اور آئی ٹی کی صنعت کو مستحکم کر نے کی بات کرنا کوئی نیا عمل نہیں ہے، تاہم اس سمت میں کی گئی تمام عملی کاوشوں اور زبانی جمع خرچ میں مقامی آبادی کے ایک وسیع حصّہ کو ہمیشہ سے ہی نظر انداز کیا گیا ہے۔ یہ ہے ملک کی دیہی علاقوں میں آباد لوگ جو تقریباً ملکی آبادی کا ستر فیصد ہیں۔

حال ہی میں لاہور میں پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) کی وساطت سے ’رورل وائرلیس کنیکٹوٹی کانفرنس‘ یعنی دیہی علاقوں میں لاسلکی کمپیوٹر نیٹ ورک کے ذریعے سے رابطہ کی فراہمی کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس منعقد کی گئی۔

اس کانفرنس کے زیر غور موضوعات میں وائرلیس میش نیٹ ورکس کے سماجی، اقتصادی اور تکنیکی پہلوؤں، قانونی پیچ اور کاروباری طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔

یہاں پر یہ بتاتے چلیں کہ میش نیٹ ورک ایک ایساکمپیوٹر نیٹ ورک ہو تا ہے جس میں نیٹ ورک کے مختلف نوڈز مثلا کمپیوٹر، موبائل فون، پی ڈی اے وغیرہ کے درمیان ڈیٹا، وائس یعنی آواز اور ہدایات کا انتقال کیا جاسکتا ہے۔ میش نیٹ ورک کم خرچ ہونے کے ساتھ مسلسل کنکشن قائم رکھنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں اوراس نیٹورک کے ایک نود کی خرابی کے باوجود بھی ڈیٹا کی ترسیل ممکن ہوتی ہے۔

کانفرنس کے مقررین میں ملکی اور غیر ملکی مندوبین شامل تھے۔ برطانیہ کی غیر سرکاری تنظیم او پلان فائڈیشن کے سربراہ میلکم مارسٹن نے ٹیلی کام انڈسٹری کے ارتقا اور تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے یورپ کے دیہاتی علاقوں میں وائرلیس انٹرنیٹ نیٹورکس کی کامیاب مثالیں پیش کیں۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں اسی قسم کے وائرلیس انٹرنیٹ نیٹورکس کی مناسبت پر میلکم مارسٹن نے رجائیت کا اظہار کر تے ہوے کہا ’وائرلس انٹرنیٹ نیٹ ورکس ایک سے تیس کلومیٹر کے علاقہ میں کام کرسکتے ہیں اور اس نوعیت کے تکنیکی ڈھانچے محض انٹرنیٹ تک رسائی یا آپس میں رابطہ قائم کر نے کا کم خرچ ذریعہ ہی نہیں ہو تے ہیں بلکہ وہ مقامی کمیونٹی میں معاشرتی و اقتصادی تبدیلی کی ضامن بھی ثابت ہوئے ہیں۔ پاکستانی نوجوانوں کی تکنیکی قابلیت اور جوش وخروش متاثر کن ہے اور اسے دیکھتے ہوئے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان کے شہروں کے باہر بھی اپنی مدد آپ کے جذبے کے تحت وائرلیس کنیکٹوٹی نیٹورکس لگانا مشکل فعل نہیں‘۔

وکرم کرشنا
وکرم کرشنا نے شرکاء کو کمیونٹی ریڈیو اور وائرلیس نیٹورکنگ کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا
بھارت سے مدعو کیے گئے مندوب وکرم کرشنا نے دیہی علاقوں میں وائرلیس کنیکٹوٹی کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گاؤں سے شہروں کی جانب ہجرت بیسويں صدی کا ایک تسلیم شدہ امر ہے۔ تاہم جب لوگ گاؤں سے شہر کی طرف آتے ہیں تو وہ تکنیکی اور شعوری اعتبارسے شہریوں سے پیچھے ہونے کی وجہ سے اپنا معیار زندگی بہتر کرنے میں دشواری یا ناکامی کا سامنا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیہی وائرلس کنیکٹوٹی کا منصوبہ اس امر کو دور کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب حکومت پاکستان کےسابقہ مشیر برائے آئی ٹی سلمان انصاری کے خیال میں دیہی آبادی کو آپس میں کنیکٹ کرنے اور انٹر نیٹ کے ذریعے بیک وقت ان کا باہر کی دنیا سے رابطہ جوڑنے کے لیے وائرلیس نیٹ ورک کے لیے تکنیکی صلاحیتیں حاصل کرنا اس کاوش کا شاید کا سب سے آسان پہلو ہے۔

سلمان انصاری کے مطابق پاکستان کی دیہی آبادی ملک کا ایک بڑا حصہ ہونے کے باوجود حکومتی و ملکی فیصلوں اور معاملات میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔

’دیہی علاقوں میں لوکل ایریا نیٹ ورکس یا میش نیٹورکس وہاں کی آبادی میں شعور اور آگاہی پیدا کر نے اور اپنی آواز اور مسائل کی طرف متوجہ کرانے کے لیے ایک منفرد اور خود مختار پلیٹ فارم ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایک یا ایک سے زائد گاؤں پر مشتمل ایک نیٹ ورک پر بیرونی انٹرنیٹ لنک کے بغیر بھی جب وافر بینڈوتھ دستیاب ہوگی تو اس نیٹورک پر وڈیو کانفرنسنگ، کمیونٹی ریڈیو حتیٰ کہ ایک کمیونٹی ٹیلیویژن براڈکاسٹ بھی ممکن ہو سکتاہے جسے وہاں کے مقامی لوگ اپنی کمیونٹی کے لیے خود مختار طور پر چلا سکتے ہیں‘۔

سلمان انصاری نے بتایا کمپیوٹر ہارڈویئر اور نیٹ ورک کے لیے درکار دیگر پرزوں کی قیمتوں میں کمی کے مد نظر اب کمپیوٹر نیٹ ورک گاؤں میں لگانا ممکن ہے۔

’جہاں تک ان کی تکنیکی دیکھ بھال کا سوال ہے توگاؤں میں جو لوگ بجلی کا کام یا گاڑی یا ٹریکٹر کی مرمت کر سکتے ہیں ان کو تھوڑی سے رہنمائی اور تربیت کے بعد ان نیٹ ورکس کی دیکھ بھال میں دقت نہیں ہونی چاہیے۔ مگر اس پروجیکٹ کو کامیاب ہونے کے لیے دیہی آبادی میں شرع خواندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے تکنیکی اور تعلیمی صلاحیتوں خصوصاً کمپیوٹر کے موثر استعمال کے لیے رہنمائی اور آگاہی کی طرف توجہ دینا بھی نہایت ضروری ہے‘۔

پاشا کی سابقہ صدر اور کانفرنس کی منتظم جہاں آراء نے کانفرنس کے مقاصد بیان کرتے ہوے بتایا کہ ’سب یہ بات سمجھتے اور جانتے ہیں کہ جب تک چھوٹے شہروں اور گاؤں میں آئی ٹی کو فروغ نہیں دیا جائے گا، وہاں پر ترقی نہیں ہوگی اور ملک صحیح معنوں میں تب تک آئی ٹی کے میدان میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس پہلو کو مد نظر رکھتے ہوے ہم نےکانفرنس میں بیرون ملک سے وائرلیس کمیونٹی نیٹورکس کے ماہرین، مقامی سافٹ ویر انڈسٹری اور دیہی علاقوں میں ترقیاتی کاموں میں ملوث لوگوں کو مدعو کیا۔ اس تقریب کا مقصد یک طرفہ گفتگو کے بجائے ان شعبوں کےلوگوں کو آپس میں ملوانا اور پاکستانی دیہی علاقوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوے وائرلیس کنیکٹوٹی کے فوائد پر تبادلہ خیال کا موقع فراہم کرنا تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ مقامی سطح پر اس ٹیکنالوجی سے کس طرح مستفید ہوا جا سکتا ہے‘۔

کانفرنس کے دوسرے روز وکرم کرشنا نے شرکاء کو کمیونٹی ریڈیو اور وائرلیس نیٹورکنگ کا عملی مظاہرہ پیش کیا۔

اس کانفرنس کے دوران پاشا کی جانب سے جہاں آرا نے دیہاتوں میں وا‎ئرلیس کنیکٹوٹی فراہم کر نے کے ‏مقصد سے ایک فنڈ کا بھی اعلان کیا اور امید ظاہر کی کہ آ‏ئندہ تین ماہ کے دوران ایک عملی منصوبہ کی شروعات بھی کی جائے گی۔

اسی بارے میں
آئی ٹی سی این کی چھٹی نمائش
15 August, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد