ریبا شاہد کراچی |  |
 | | | رائزپاک کی پروجیکٹ منیجر سارہ زیدی سسکو سسٹمز کے جنرل منیجر سیویرکر ہینر وال کے ساتھ سٹاک ہالم میں ایوارڈ لینے کے بعد |
گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلہ نے جہاں انسانی زندگی کی بے ثباتی اور قدوتی آفات سے نمٹنےمیں انتظامیہ کی بے بسی کو روز روشن کی طرح عیاں کیا وہیں اس واقع کے توسط سے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کا ایک خصوصی روپ بھی سامنے آیا۔ یعنی انفارمیشن ٹیکنولوجی کا امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے معاون ثابت ہونا۔ یوں تو عام حالات میں بھی ای میل اور ایس ایم ایس مواصلات اور معلومات کی تیزی سے ترسیل کا اہم ذریعہ ہیں اور اس سانحے کے حوالے سےان مواصلاتی ذرائع کی اہمیت اپنی جگہ برقرار رہی۔ تاہم انٹرنیٹ کے حوالہ سے ایسی بے شمار ویب سائٹس اور بلاگز سامنے آئے جن کے ذریعے زلزلہ کے متاثرین کے لیے امداد اور عطیات کی اپیل کی گئی تھی۔
 | زلزلہ اور بلاگرز  بلاگرز نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے آنکھوں دیکھا حال بھی اپنے بلاگز میں لکھا  |
زلزلے کے متعلق بلاگز پرجہاں ایک طرف اس سانحہ کے بعد رونما ہونے والے حالات اور خبروں پر تحریری اور تصویری اپ ڈیٹز دیے گئے وہیں کچھ بلاگرز نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے آنکھوں دیکھا حال بھی اپنے بلاگز میں لکھا جب کہ بعض نے اپنے ویب سائٹس اور بلاگز پر مخصوص بینر آویزاں کر کے زلزلہ زدگان کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کرنا پسند کیا۔ یہ تو رہا آئی ٹی کا انفرادی سطح پر استعمال۔اس کے علاوہ جہاں دنیا بھر سے زلزلہ زدگان کے لیے مالی امداد بھیجی گئی وہیں سری لنکا نے آئی ٹی کے حوالے سے تکنیکی مدد کا انتظام بھی کیا۔ دسمبر دو ہزار چار میں سر لنکا اور اس کےاعتراف کے ساحلی علاقوں میں سونامی کی تباہ کاریوں کے بعد تعمیر نو کا کام کر نے والوں میں ربط قائم کر نے اور بحالی کے کام میں مدد کے لیے ’صاحانہ‘ (SAHANA) سافٹ ویر بنایا گیا تھا۔ صاحانہ (جس کے معنی سنہالہ زبان میں ’امداد‘ یا ’ریلیف‘ کے ہیں) ویب پر کام کرنے والا ایک اوپن سورس سافٹ ویر پروگرام ہے۔ صاحانہ کے ذریعہ قدرتی آفات کی وجہ سے لا پتہ افراد کی تفصیلات، امدادی تنظیموں، رضاکاروں اور انتظامیہ کے درمیان رابطہ قائم اور برقرار رکھنے، امدادی سامان اور امدادی کیمپوں کے اندراج وغیرہ جیسے کاموں کے لیے متعلقہ معلومات ایک جگہ جمع کر نے اور انٹرنیٹ کے ذریعے ان معلومات کی ترسیل کا کام کیا جاسکتا ہے۔ اوپن سورس سافٹ ویر پروگرام ہونے کی وجہ سے اس کی ترسیل مفت کی جاتی ہے اور چونکہ اس کا کوڈ ’اوپن‘ یا ’کھلا‘ ہوتا ہے اس لیے اس پروگرام میں ضرورت کے مطابق مناسب تبدیلیاں بھی کی جاسکتی ہیں۔
 | | | رضوان عباسی |
صاحانہ کی موجد کمپنی لنکا سافٹ ویر فاؤنڈیشن ، کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کی کمپنی آئی بي ایم کی کرائسس رسپانس ٹیم اور آئی بي ایم پاکستان کی مدد سے اس سافٹ کو نیشنل دیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرہ) کو فراہم بھی کیا گیا۔ صحانہ پاکستان سے وابستہ آئی بی ایم کے آئی ٹی کے ماہر رضوان عباسی نے اپنا تجربہ کچھ یوں بتایا ’آٹھ اکتوبر کو آنے والا زلزلہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا اس لیے یہاں لوگوں کو تجربہ نہیں تھا کہ آئی ٹی کو کس طرح امدادی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنا ہے۔ مختلف تنظیمیں اپنے اپنے طور پر کام کر رہی تھیں لیکن کسی کو یہ نہیں معلوم تھا کہ سب کو کس طرح ایک ساتھ لے کر چلنا ہے۔ صحانہ بنیادی طور پر ایک ڈزاسٹر منیجمنٹ فریم ورک ہے جس کی افادیت سونامی کے بعد واضح ہو چکی تھی۔ اس لیے اسے یہاں پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مگر زلزلہ کے بعد کی صورتحال سونامی کی واقعہ سے مختلف تھی مثلا زلزلہ کے بعد زخمیوں کی ایک بہت بڑی تعداد تھی اور یہاں جغرافیائی صورتِحال بھی مختلف تھی۔ سونامی میں ساحلی پٹی تھی مگر یہاں کا متاثرہ علاقہ پہاڑوں، پتھریلی زمین اور دشوارگزار علاقوں پر مشتمل تھا۔ اس لیے یہ سافٹ ویر مقامی ضروریات کے تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔ لہٰذا نادرہ نے اس سافٹ ویر کے اوپن سورس ہونے کے پہلو سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس میں کچھ اضافی جزو شامل کیے جن میں جیوگرافیکل انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس) اور نقشے وغیرہ شامل ہیں‘۔
 | صاحانہ سے لی گئی مدد  صاحانہ کے ذریعہ قدرتی آفات کی وجہ سے لا پتہ افراد کی تفصیلات، امدادی تنظیموں، رضاکاروں اور انتظامیہ کے درمیان رابطہ، امدادی سامان اور امدادی کیمپوں کے اندراج جیسے کاموں کے لیے معلومات کی ترسیل کا کام کیا جاسکتا ہے  |
رضوان عباسی کے مطابق اس سافٹ ویر سے نادرہ کی ڈیٹا بیس میں موجودہ ڈیٹا اور متاثرہ علاقوں میں موبائل ڈیٹا کلیکشن ٹیموں کے جمع کردہ ڈیٹا کا موازنہ کر کے جانی نقصان، گمشدہ اور معزور افراد کی تعداد کا پتا چلایا گیا۔زلزلہ کے بعد بحالی کے اقدامات کے حوالے سے آئی ٹی کے افادیت کونہ صرف مقامی سطح پر آزمایا گیا ہے بلکہ اسے بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔ اس کی ایک مثال ریسرچ انفارمیشن سسٹم فار ارتھ کوئکس پاکستان (رائیز پاک) کی صورت میں موجود ہے۔ رائیز پاک کی ویب سائٹ پر زلزلہ سے متاثرہ چار ہزار دیہاتوں کی زلزلہ سے پہلے کی آبادی اور جغرافیائی معلومات، نقصانات، امداد اور رسائی کی صورتحال کو یکجا کیا گیا ہے۔ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کی تیار کردہ اس ویب سائٹ پر یہ تمام معلومات نہ صرف تلاش کی جاسکتی ہیں بلکہ فون، ایس ایم ایس، فیکس، ای میل اور ویب فورم کے ذریعےاس اعداد شمار کو اپڈیٹ کرنے کی سہولت بھی دی گئی ہے۔
 | | | زلزلے کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے مدد حاصل کی گئی |
زلزلہ کے بعد بارہ دن کے اندر قائم کی جانے والی رائیز پاک ویب سائٹ کو مئی دو ہزار چھ میں سٹاک ہوم چیلنج ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔ امدادی سرگرمیوں اور نقصانات کے اعدادوشمار جمع کرنے اور ان معلومات کی مناسب ترسیل کے علاوہ آئی ٹی کا کردار ٹیلی میڈیسن کے حوالے سے بھی قابل ذکر ہے۔ ٹیلی میڈیسن کیا ہے اور آئی ٹی اور صحت کے حوالہ سے اس کی کیا اہمیت ہے اس پر بات کسی اور وقت ہوگی۔ زلزلہ سے متاثرہ دور افتادہ علاقوں میں ٹیلی میڈیسن یونٹس کے ذریعے کس طرح طبی امداد فراہم کی گئی اس کا احوال ٹیلی میڈیسن کے منصوبہ سے منسلک ٹی ایچ کے ایس ٹیکنالوجی گروپ کے چیف آپریٹنگ آفیسر اظہر رضوی نے کچھ یوں بیان کیا ’ٹیلی میڈسن کے بنیادی یونٹ میں ایک لیپ ٹاپ، مقامی طور پر تیار کردہ ٹیلی میڈیسن سافٹ ویر، ڈیجیٹل کیمرہ اور سکینر فراہم کیا گیا تھا۔ جب مریض طبی امداد کے لیے آتے تھے تو ڈیجٹل کیمرہ کی مدد سے اس کے جسم کے متاثرہ حصہ کی تصاویر اور مرض کی تمام علامتیں اس سافٹ ویر پر محفوظ کر لی جاتی تھیں۔ پھر یہ تفصیلات سیٹیلائیٹ انٹرنیٹ کے ذریعے راول پنڈی میڈیکل کالج اور ہولی فیملی ہسپتال بھیجی جاتی تھیں۔ یہاں پر موجود طبی ماہرین اس ڈیٹا کا معائنہ کر کے اس سافٹ ویر اور انٹرنیٹ کے ذریعے تشخیص اور ادویات تجویز کر تے تھے۔ اس طرح مریض کو طویل سفر طے کیے بغیر ماہر ڈاکٹروں سے علاج کی سہولت مہیا کی گئی اور جن مریضوں کو شہر میں لا کر علاج کی ضرورت تھی ان کی نشاندہی کر نے میں بھی آسانی ہوگئ‘۔
 | ٹیلی میڈیسن سے علاج  جن بارہ علاقوں میں ٹیلی میڈیسن کے یونٹ لگائےگئے تھے وہاں قطع عضو میں بارہ فیصد کمی ہوئی اور بر وقت درست تشخیص ہونے کی وجہ سے انفیکشن کے کیسز میں بھی پندرہ فیصد کمی ہوئی  |
اظہر رضوی کے مطابق زلزلہ زدہ جن بارہ علاقوں میں ٹیلی میڈیسن کے یونٹ لگائےگئے تھے وہاں قطع عضو میں بارہ فیصد کمی ہوئی اور بر وقت درست تشخیص ہونے کی وجہ سے انفیکشن کے کیسز میں بھی پندرہ فیصد کمی ہوئی۔ یہ تو تھیں آئی ٹی کے حوالے زلزلہ کے امدادی سرگرمیوں کی چند مثالیں۔ قدرتی آفات انسان کے دائرہ اختیار سے بے شک باہر ہیں مگر سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے بحالی اور تعمیر نو کے کام میں خاطر خواہ معاونت حاصل کی جاسکتی ہے۔ |