آئی ٹی سی این کی چھٹی نمائش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ چھ سال کی طرح اس سال بھی پاکستان کی سب سے بڑی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی نمائش ’آئی ٹی سی این‘ ایشیا کا انقعاد کراچی کے ایکسپو سینٹر میں کیا گیا ـ نو اگست سے گیارہ اگست تک جاری رہنے والی اس نمائش میں پاکستان سمیت سینتیس ممالک کی ایک سو پچاس کمپنیوں نے اپنےاسٹال لگائے۔ نمائش کا افتتاح کر تے ہوئے سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے امید ظاہر کی کہ آئی ٹی سی این جیسی تجارتی نمائشوں کے انعقاد سے بین الاقوامی برادری پر پاکستان کا مثبت تاثر پڑے گا اور یہ نمائش ملک کا وقار بلند کر نے کا اہم ذریعہ ثابت ہوگی ـ آئی ٹی سی این کی چھٹی نمائش میں جہاں آئی ٹی اور ٹیلی کام سے وابسطہ بین الاقو امی اور مقامی نامور کمپنیوں نے حصہ لے کر لوگوں کو اپنی مصنوعات اور خدمات سے آگاہی فراہم کی وہیں پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں نے بھی اپنے نمائش میں پاکستان میں موبائل سروس فراہم کر نے والی بڑی کمپنیوں کے اسٹال بھی موجود تھے جو مختلف گیم شوز اور تعارفی مصنوعات کی وجہ سے عوام کی دلچسپی کا مرکز بنے رہے۔ نمائش دیکھنے والوں میں بڑی تعداد نوجوان طالب علموں کی تھی جو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے منسلک مختلف نوعیت کی اشیاء کو ایک ہی چھت کے نیچے دیکھ کر اپنی دلچسپی اور تجسس کا اظہار کر رہے تھے۔ اس نمائش میں آنے والی ایک طالبہ حنا فاطمہ کے خیال میں ’اس طرح کی نمائشوں کے ذریعہ آئی ٹی کی شعبہ میں ہو نے والی تبدیلیوں سے با آسانی واقفیت ہوتی ہے اور دیگر مصنوعات کے عملی استعمال اور قیمت سے آشنائی بھی ہوتی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ تاہم آئی ٹی سے منسلک تقریبات بہت محدود ہو تی ہیں اور ان میں اضافہ ہونا چایئے کیونکہ موجودہ دور ٹیکنالوجی کا ہے۔ اس ہی طرح آئی ٹی سی این میں شریک فائبر آپٹک کیبل تیار کرنے والی ایک کمپنی فرنٹیر کیبلز کےمارکٹنگ ڈائریکٹر کے مطابق یہ سالانہ نمائش نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستانی مصنوعات متعارف کرانے کا اہم ذریعہ ہے۔ ’ہمارے اسٹال پر بہت سارے لوگ ایسے بھی آئے ہیں جنہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ پاکستان میں فائبر آپٹک کیبل بھی تیار کی جاتی ہیں‘۔ نمائش کے منتظم ای کامرس گیٹ وے کے صدر ڈاکٹر خورشید نظام کے مطابق اس سال تقریباً تین لاکھ تیرہ ہزار افراد نے یہ نمائش دیکھی جبکہ چار سو پچاس غیر ملکی مندوبین نے بھی اس میں شرکت کی ـ ڈاکٹر خورشید نظام کے مطابق اس نمائش کے ذریعے ایک سو پچاس ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی امید کی جاسکتی ہے۔ | اسی بارے میں میوزک بھی ساتھ اٹھائے پھریں05 January, 2006 | نیٹ سائنس پی سی وائرس کے بیس سال23 January, 2006 | نیٹ سائنس کراچی میں کمپیوٹر لنڈا بازار05 June, 2006 | نیٹ سائنس آئی ٹی اور دیسی کیبل انٹرنیٹ22 June, 2006 | نیٹ سائنس ویب کا پندرہ سالہ سفر: ایک جائزہ08 August, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||