BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 June, 2006, 12:05 GMT 17:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی میں کمپیوٹر لنڈا بازار

سکینڈ ہینڈ کمپیوٹر
سکینڈ ہینڈ کمپیوٹر سستے ضرور ہوتے ہیں مگر اس کی کارکردگی اور معیار کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی
کہتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ ملک میں آئی ٹی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے جہاں کراچی میں پائریٹڈ سافٹ ویئر کے رینبو سینٹر اور یونی پلازہ جیسے کاروباری مراکز کو جنم دیا وہیں کمپیوٹر کی بڑھتی ہوئی مانگ کو مدِنظر رکھتے ہوئے کراچی میں ایسے کاروباری مراکز بھی موجود ہیں جہاں استعمال شدہ کمپیوٹروں کو مرمت کر کے انہیں سستے داموں فروخت کیا جاتا ہے۔

اس طرح کے سستے کمپیوٹر ہارڈویئر کے کاروباری مراکز میں کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر موجود ناز ڈیجیٹل پلازا کا شمار بھی ہوتا ہے۔ اس مارکیٹ میں تقریباً تین سو دکانیں ہیں جن میں استعمال شدہ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر مانیٹر اور کمپیوٹر کے دیگر پرزے فروخت کیئے جاتے ہیں۔

محمد اعظم اور نادر شاہ گزشتہ چار سال سے قراقرم کمپیوٹرز کے توسط سے اس مارکیٹ میں نئے اور پرانے کمپیوٹروں کا کاروبار کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’پرانے کمپیوٹر سکریپ کی صورت میں امریکہ، انگلینڈ اور دیگر ترقی یافتہ مغربی ممالک سے پاکستان درآمد ہوتے ہیں۔ یہ وہ پرانے کمپیوٹر ہوتے ہیں جن کی وارنٹی ختم ہو چکی ہوتی ہے اور نئی ٹیکنالوجی کے آ جانے سے انہیں ناکارہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہاں آنے کے بعد انہیں کھول کر ان کے مختلف پرزوں کو توڑ جوڑ کر صارفین کی مانگ کے مطابق کمپیوٹر تیار کیئے جاتے ہیں۔ کم قیمت ہونے کی وجہ سے یہ کمپیوٹر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی دسترس میں بھی آ جاتے ہیں‘۔

بازار میں پرانے کمپیوٹروں پر رنگ کر کے انہیں نیا کر دیا جاتا ہے

مارکیٹ میں دستیاب نئے اور پرانے کمپیوٹروں کی قیمتوں کے فرق کا حوالہ دیتے ہوئے محمد اعظم نے بتایا کہ’جہاں ا یک نیا پینٹئم فور کمپیوٹر سسٹم بیس سے تیئیس ہزار روپے میں فروخت کیا جاتا ہے وہیں اس بازار میں وہی استعمال شدہ پینٹئم فور کمپیوٹر پندرہ ہزار روپے میں مانیٹر سمت مل جاتا ہے جبکہ پینٹئم تھری چھ سے سات ہزار روپے میں بھی فروخت کیئے جاتے ہیں‘۔

یہ پرانے کمپیوٹر گو کم قیمت تو ضرور ہوتے ہیں مگر ان کی کسی قسم کی وارنٹی نہیں ہوتی یعنی اگر فروخت کے بعد ان میں کسی قسم کی خرابی پیدا ہو جائے تو دکاندار اس کے ازالہ یا مفت مرمت کے ذمہ دار نہیں ہوتے۔

کمپیوٹر کے پرزوں کے فروخت کے ساتھ اس مارکیٹ میں ایسی دکانیں بھی موجود ہیں جہاں پرنٹر کے استعمال شدہ ’ کارٹرجز‘ کو ان کی اصل قیمت کے ایک چھوٹے سے حصے کے عوض، طبّی استعمال میں آنے والی سرنج کی مدد سے کم قیمت پرنٹر کی روشنائی بھر کر دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جاتا ہے۔

اس بازار میں پرزوں کی جوڑ توڑ کر مدد سے نئے کمپیوٹر بنائے جاتے ہیں

اس کے علاوہ یہاں پر پرانے کمپیوٹروں کے مانیٹر اور سی پی یو کیسنگ کو رنگ کر کے ان پر ’ایچ پی‘، ’کوم پیک‘ وغیرہ جیسے مشہور کمپیوٹر برانڈ کے لیبل بھی لگانے کا کام بھی کیا جاتا ہے جس سے ان پرزوں کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

رضوان عمر اس مارکیٹ میں گزشتہ تین سال سے اپنی کمپیوٹر ہارڈویئر کی دکان چلا رہے ہیں۔ رضوان کے خیال میں کم قیمت ہونے کے ساتھ ساتھ ان سکینڈ ہینڈ کمپیوٹروں کی مقبولیت کی ایک وجہ ا ن کا مغربی ممالک سے درآمد ہونا بھی ہے۔ رضوان کے مطابق’نئے کمپیوٹر مہنگے ضرور ہوتے ہیں مگر ان میں چائنہ میں تیار کردہ پرزے نصب کیئے جاتے ہیں۔ ویسے تو ساری دنیا چین میں تیار کردہ سامان استعمال کر رہی ہے مگر یہاں ایک عام تصوّر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ چین کی مصنوعات دیر پا نہیں ہوتیں۔ لوگوں کے ذہنوں میں کوم پیک، ایچ پی، ڈیل جیسے امریکی برانڈز کے بس نام ہو تے ہیں۔ اس طرح یہاں وہ صارفین بھی آتے ہیں جو امریکہ اور انگلینڈ سے درآمد کیے گئے استعمال شدہ برانڈڈ کمپیوٹروں کو کم قیمت پر خریدنا پسند کرتے ہیں‘۔

 ا یک نیا پینٹئم فور کمپیوٹر سسٹم بیس سے تیئیس ہزار روپے میں فروخت کیا جاتا ہے وہیں اس بازار میں وہی استعمال شدہ پینٹئم فور کمپیوٹر پندرہ ہزار روپے میں مانیٹر سمت مل جاتا ہے جبکہ پینٹئم تھری چھ سے سات ہزار روپے میں بھی فروخت کیئے جاتے ہیں
ایک دکاندار

ایک طرف جہاں ان کم قیمت کمپیوٹروں کے کاروبار نے ایک عام آدمی کے کمپیوٹر کا مالک بننے کے خواب کو حقیقت بنا دیا ہے وہیں ان سستے کمپیوٹروں کے کاروبار کا نئے کمپیوٹروں خصوصاً نئے پرزوں کو جوڑ کر تیار ہونے والے مقامی کمپیوٹر برانڈز کے کاروبار پر کس قسم کے اثرات مرتب کیئے ہیں؟

پاکستان میں گزشتہ بائیس سال سے ہارڈویئر کا کاروبار کرنے والی ایک کمپنی انٹرنیشنل آفس پراڈکٹس کے شعبۂ مارکیٹنگ سے وابستہ وقار مدنی کے مطابق’ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ساڑھے چار لاکھ کمپیوٹر خریدار موجود ہیں ـ یہ مارکیٹ مختلف حصوں یا درجوں میں بٹی ہوئی ہے جن میں سے ایک چھوٹا سا حصّہ ان گھریلوصارفین کا بھی ہے جن کا بجٹ کم ہوتا ہے اور وہ کم قیمت پی سی کے لیئے سکینڈ ہینڈ کمپیوٹر خریدتے ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ’شروع شروع میں نئے اور برانڈڈ کمپیوٹروں کی کمپنیوں کو پرانے کمپیوٹروں کے کاروبار سے کچھ خطرہ ضرور محسوس ہوا تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب ان سستے استعمال شدہ کمپیوٹروں کی کارکردگی سامنے آئی اور جب ان میں فنی خرابیاں پیدا ہوئيں تو جو لوگ مالی استطاعت رکھتے تھے انہوں نے دوبارہ سے مستند برانڈز اور نئے کمپیوٹروں کو ترجیح دینا شروع کر دی‘۔

پرنٹروں کی کارٹرجز میں روشنائی بھرنے کا کام جاری ہے

ان کا کہنا تھا کہ ’سکینڈ ہینڈ کمپیوٹر سستے ضرور ہوتے ہیں مگر اس کی کارکردگی اور معیار کی کوئی ذمہ داری نہیں اور نہ جانے یہ کب چلتے چلتے رک جائیں جبکہ ایک مستند کمپیوٹر کمپنی کوالٹی ٹیسٹنگ کے بعد بھی پوری وارنٹی اور بعد از فروخت سروس فراہم کرتی ہے۔ اس لیئے اگر ہم ان سستے کمپیوٹروں کی قیمت کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو وہ ہمارے معیار اور کارکردگی کا مقابلہ نہیں کرسکتے‘۔

ریبا شاہدریبا کی ڈائری
آئی ٹی سے بینائی اور سماعت کی کمی کا ازالہ
انٹرنیٹانٹرنیٹ بلیک آؤٹ
پاکستان میں انٹرنیٹ سروسز بری طرح متاثر
اسی بارے میں
کمپیوٹر پرزوں کے ریڑھی بان
25 November, 2004 | پاکستان
ہیکٹیوزم: شعور یا محض شور؟
28 March, 2006 | نیٹ سائنس
ہیکرز: اچھے بھی برے بھی
15 March, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد