آن لائن خریداری کے10 سال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ایک ڈرائنگ روم میں سائبر سپیس کے پہلے نیلام گھر کا آغاز ہوئے آج دس برس پورے ہوگئے ہیں۔ ای بے کے خالق پیری اومِڈیار نے جب انٹرنیٹ پر نیلامی کے لیے اپنی ویب سائٹ کو عام لوگوں کے لیے پیش کیا تو پہلے دن کسی نے اس پر جانے کی زحمت گوارا نہ کی۔ مگر آج ای بے انٹرنیٹ پر ہونے والے کاروبار کی کامیاب ترین ویب سائٹ ہے اور اس کے ذریعے دنیا کے چونتیس ملکوں میں روزانہ بارہ کروڑ ڈالر مالیت کی اشیا کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔
اس ویب سائٹ پر فروخت ہونے والی سب سے مقبول اشیاء میں کپڑے، موبائل فون اور کاریں شامل ہیں۔ چار سال پہلے جب ٹیکنالوجی کی دنیا میں بحران پیدا ہوا تھا تو گوگل، امیزون اور یاہو کے ساتھ ای بے بھی بچ جانے والی ویب سائٹوں میں شامل تھی۔ توقع ہے کہ اس سال ای بے ایک ارب ڈالر کا منافع کمائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||