آلودہ ترین شہر، ایک انڈیا میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ماحولیات کے بارے میں کام کرنے والی تنظیم نے دنیا کے دس سب سے زیادہ آلودہ مقامات کی فہرست جاری کی ہے۔ 'دی بلیک سمتھ نامی اس تنظیم کی اس فہرست میں سابق سوویت یونین کی ریاستوں، چین، انڈیا، پیرو اور زیمبیا کے شہر شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ افراد شدید آلودگی کا شکار ہیں جس کی ایک بڑی وجہ کیمیائی، دھات اور کانکنی کی صنعتیں ہیں۔ آلودگی بیماریوں اور کم عمری میں موت کا باعث بن رہی ہے۔ دو ہزار سات کی فہرست میں چین کا شہر تیانگ یانگ جہاں ممکنہ طور پر ایک لاکھ چالیس ہزار افراد تانبے کی صنعت سے آلودگی کا شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انڈیا کے شہر سکندا بھی آلودہ ترین مقامات میں شامل ہے۔ اس میں میں بارہ کانیں ہیں جو ماحولیاتی تحفظات کے بغیر کام کر رہی ہیں اور ان سے نقصاندہ کیمیائی اجزاء پینے والے پانی میں شامل ہو رہے ہیں۔ آذربائجان کے شہر سمگئیت میں کینسر کی شرح قومی اوسط سے اکیاون فیصد زیادہ ہے اور بچوں میں پیدائشی کمزوریوں کی صورت میں اس کے اثرات نظر آ رہے ہیں۔ بلیک سمتھ کے منتظم اعلیٰ رچرڈ فلر نے کہا کہ ’ حقیقت یہ ہے کہ ان آلودہ مقامات پر بچے بیمار اور ہلاک ہو رہے ہیں اور ان مقامات پر حالات بہتر بنانا بہت زیادہ مشکل کام نہیں ہونا چاہیے‘۔ انہوں نے کہا کہ اس سال ذرائع ابلاغ میں آلودگی کا بہت ذکر رہا ہے لیکن اس سے نمٹنے کے لیے وسائل جمع کرنے کی طرف زیادہ کام نہیں کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ماحولیاتی تبدیلی، عالمی رہنما متفق16 February, 2007 | نیٹ سائنس معاشی ترقی کیساتھ ماحولیاتی تبدیلی04 June, 2007 | نیٹ سائنس چین: ہر ہفتے میں دو کارخانے20 June, 2007 | نیٹ سائنس ’آلودہ بادل بڑھتی گرمی کے ذمہ دار‘02 August, 2007 | نیٹ سائنس فضا میں آلودگی اور آپ کی کار21 April, 2006 | نیٹ سائنس 20 ہزار کانوں میں کام بند16 May, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||