’آلودہ بادل بڑھتی گرمی کے ذمہ دار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک تحقیق کے مطابق براعظم ایشیا اور بحرِِ ہند کے اوپر موجود آلودگی کے بادل گلوبل وارمنگ میں اتنا ہی اہم کردار ادا کر رہے ہیں جتنا کہ مختلف انسانی کاموں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں۔ امریکی محققین نے ان ’ بھورے بادلوں‘ سے اردگرد کے علاقے پر پڑنے والے اثر کا جائزہ لینے کے لیے تین بغیر پائلٹ کے طیارہ استعمال کیے جنہوں نے اس علاقے پر پانچ سو سے تین ہزار میٹر تک کی بلندی پر اٹھارہ پروازیں کی۔ محققین کے مطابق ان آلودہ بادلوں کی وجہ سے اس علاقے میں سورج کی روشنی سے پڑنے والی گرمی میں پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان آلودہ بادلوں میں روشنی جذب کرنے اور پھیلانے والے’ایروسول‘ موجود ہیں جن کی وجہ سے فضا میں گرمی بڑھ رہی ہے جبکہ زمین کی سطح ٹھنڈی ہو رہی ہے۔سائنسدانوں کے مطابق ان آلودہ بادلوں کی تشکیل کی بڑی وجہ لکڑیوں اور ’فوسل فیول‘ کا جلاؤ ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق حرارت میں یہ اضافہ ہمالیہ کے گلیشیئرز کے پگھلاؤ کی اہم وجہ ہو سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق’حرارت میں ہر عشرے میں 25۔ کیلون اضافے کا رواج ہمالیہ کے گلیشیئرز کو پگھلانے کے لیے کافی ہے۔ یاد رہے کہ ہمالیہ کے گلیشیئر سے پگھلنے والی برف سے حاصل ہونے والا پانی دنیا کی چالیس فیصد آبادی کی ضروریات پوری کرتا ہے اور اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صدی کے خاتمے تک ہمالیہ کے علاقے میں برف کی تہیں مزید اکیاسی فیصد پگھل جائیں گی۔ | اسی بارے میں ماحولیاتی تبدیلی پر انڈیا متحرک13 July, 2007 | نیٹ سائنس گلیشیئر پگھلنے سے گاؤں زیرِ آب30 June, 2007 | پاکستان برفانی تودے اور سمندری حیات22 June, 2007 | نیٹ سائنس ’منجمد آبی ذخائر پگھل رہے ہیں‘10 June, 2007 | پاکستان ماحولیاتی تبدیلی اربوں کو خطرہ09 April, 2007 | نیٹ سائنس مونگوں کے ماند پڑتے رنگوں میں جان11 March, 2007 | نیٹ سائنس گلوبل وارمنگ سے زیادہ تباہ کاریاں15 August, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||