ماحولیاتی تبدیلی پر انڈیا متحرک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی سطح پر ماحولیات میں تبدیلی کے مد نظر ہندوستان میں ’گرین انڈیا‘ کے نام سے وزیر اعظم کی سربراہی میں تشکیل کردہ ماحولیاتی نگراں ادارے نے مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ مہینے تشکیل دی گئی اس کونسل کا مقصد وزير اعظم کو ماحولیات میں آ رہی تبدیلی کے چیلنچ سے نمٹنے کے لیے صلاح اور مشورے دینا ہے۔ کونسل کی پہلی میٹنگ ميں کیے گیے فیصلوں کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر سنجے بارو نے بتایا کہ یوم آزادی یعنی پندرہ اگست سے شروع ہونے والی ’گرین انڈیا کیمپین‘ کے تحت سب سے زيادہ توجہ شجرکاری کو دی جائے گی۔ سنجے بارو نے یہ بھی بتایا کہ ملک میں ماحولیات میں تبدیلی سے متعلق ایک باضابطہ حکمت عملی اکتوبر - نومبر تک وضع کر دی جائے گی اور ساتھ ہی حکومت کی جانب سے ہمالیہ کے گیلیشیئر پگھلنے کے مطالعے اور تحقیق کے لیے فنڈز فراہم کیے جائيں گے۔ مسٹر بارو نے بتایا کہ اجلاس میں ملک میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے پر سب سے زيادہ زور دیا گیا ہے۔ کونسل ميں کابینہ کے سیئنر وزير، سرکاری اہلکار اور غیر سرکاری تنظیموں کے ماہرین شامل ہیں۔ ماحولیات کی ماہر سنیتا نارائن نے بتایا کہ کونسل کے قیام کا مقصد دنیا کو یا باور کرانا ہے کہ ماحول میں عالمی پیمانے پر آ رہی تبدیلی پر ہندوستان کو اتنی ہی تشویش ہے جتنی دوسرے ممالک کو ہے۔ ماحولیات سے متعلق مختلف رپورٹس ميں آئندہ برسوں ميں چین اور ہندوستان کی معیشت میں ترقی کے سبب ماحول کے آلودہ ہونے کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔ اس نظریہ کے بارے میں سنیتا نارائن نے کہا کہ ’ترقی یافتہ ممالک کو ماحول کی حفاظت کے لیے جتنا کرنا چاہیے تھا انہوں نے انتا نہیں کیا ہے جبکہ ہندوستان بار بار یہ پیغام دے رہا ہے کہ ماحول میں تبدیلی کے چیلج سے نمٹنے کے لیے وہ ایک ذمےدار ملک کے طور پر کام کر رہا ہے‘۔ اطلاعات کے مطابق انڈیا گرین ہاؤس گیس سے ماحول کو آلودہ کرنے والے ملکوں ميں چوتھے نمبر پر ہے۔ہندوستان ماحول میں 1884 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائڈ ریلیز کرتا ہے جبکہ امریکہ 6928 ملین ٹن ، چین 4938 ملین ٹن اور روس 1952 ملتن ٹن کاربن ڈائی آکسائڈ سے ماحول کو آلودہ کرتا ہے۔ اپریل میں انٹر گورمنٹل پینل آن کلائمٹ چینج کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ ميں بتایا گیا کہ اگر گلوبل وارمنگ کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو 2030 تک پانچ لاکھ سکوئر کلومیٹر میں پھیلے ہوئے ہمالیہ کے گلیشیئر سکڑ کر ایک لاکھ سکوئر کلومیٹر تک رہ جائيں گے اور ملک کو مسلسل سیلاب ، خشک سالی، مختلف بیماریوں اور پانی کی شدید کمی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ | اسی بارے میں ترقی یافتہ ممالک، ماحول پرعدم اتفاق26 May, 2007 | نیٹ سائنس موسمی خطرات، احتیاط کی ضرورت17 March, 2007 | نیٹ سائنس ہانگ کانگ: موسمی تبدیلی سے خطرہ23 November, 2006 | نیٹ سائنس موسم تیزی سے بدل رہے ہیں01 September, 2006 | نیٹ سائنس گیسوں کی مقدار میں تاریخی اضافہ25 November, 2005 | نیٹ سائنس ’ماحول کو چین اور انڈیا سے خطرہ ہے‘ 12 January, 2006 | نیٹ سائنس ’ہزار برس بعد اتنی گرمی ہوئی ہے‘10 February, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||