BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 June, 2007, 04:29 GMT 09:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برفانی تودے اور سمندری حیات
گیارہ ہزار مربع کلو میٹر میں ایک ہزار کے قریب آئس برگ دیکھے گئے۔
ماحول کے بارے میں ایک تجزیے کے مطابق سمندر کی سطح پر تیرتے ہوئے برفانی تودے یا ’آئس برگ‘ حیاتیاتی سرگرمیوں کا مرکز ہوتے ہیں اور ان کے ارگرد کا پانی کاربن ڈآئی آکسائڈ بڑی تعداد میں جذب کر لیتا ہے۔

امریکی سائنسدانوں کے مطابق پگھلتے ہوئے برفانی تودے مختلف قسم کی معدنیات پانی میں چھوڑتے ہیں جن سے ننھے ننھے پودے پھوٹتے ہیں جو کاربن ڈائی آکسائڈ کو جذب کر لیتے ہیں۔

یہ خوردبینی پودے سمندر میں پائے جانے والے جھینگے کی ایک قسم’ کرل‘ کی خوراک بن جاتے ہیں اور ان کا فضلہ جس میں کاربن ڈآئی آکسائڈ بڑی مقدار میں ہوتی ہے سمندر کی سطح میں بیٹھ جاتا ہے۔

یہ تجزیاتی رپورٹ حال ہی میں انٹر ٹیٹ پر ایک سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

یہ تحقیق سن دو ہزار پانچ میں بحر منجمد جنوبی میں کی گی تھی اور اس کی مدد سے محققین کو سمندری ماحول پر ان تیرتے برفانی تودوں کے اثر کو جاننے میں مدد ملی۔

انٹارکٹکا میں پائے جانے والے برفانی تودوں کی تعداد میں حالیہ برسوں میں بڑھتے ہوئے عالمی درجۂ حرارت کی بنا پر اضافہ ہوا ہے۔

تحقیق کے مطابق انٹارکٹکا کے اردگرد پانیوں میں تیرتے آئس برگز کی تعداد میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے حالیہ عشروں میں اضافہ ہوا ہے۔ کیلیفورنیا کے ایکیوریم ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر کین سمتھ کے مطابق’ ہم نےگیارہ ہزار مربع کلومیٹر علاقے کی سیٹلائٹ تصاویر اتاریں اور وہاں موجود آئس برگز کی تعداد گنی تو وہاں ایک ہزار آئس برگ تھے‘۔

تحقیقاتی ٹیم کی توجہ کا مرکز دو آئس برگ تھے جن میں سے دو کلومیٹر لمبا اور نصف کلومیٹر چوڑا جبکہ دوسرا اکیس کلومیٹر لمبا اور پانچ کلومیٹر چوڑا تھا۔

تحقیق کے دوران ان آئس برگز کے اردگرد نو کلومیٹر کے علاقے کے پانی کا جائزہ لیا گیا جس سے پتہ چلا کہ جن علاقوں میں آئس برگ موجود ہیں وہاں دوسرے علاقوں کی نسبت معدنی اجزاء، خوربینی پودے، کرل اور سمندری پرندے زیادہ مقدار اور تعداد میں پائے گئے۔

ڈاکٹر کین سمتھ کے مطابق ان نتائج کی بنیاد پر آئندہ برس بڑے پیمانے پر دوبارہ تحقیق کی جائے گی اور اس مرتبہ ان آئس برگز کے آس پاس کے علاقے کا جائزہ لیا جائےگا جو ان دونوں آئس برگز سے چھوٹے ہیں جو حالیہ تحقیق کا مرکز تھے۔

ڈاکٹر سمتھ کا کہنا ہے’ ہم واپس جا رہے ہیں تاکہ ان چھوٹے آئس برگز کا جائزہ لیں اور ان کی اہمیت کا پتہ لگائیں اور یہ دیکھیں کہ کیا وہ بھی پانی میں معدنی اجزاء کے اضافے میں کردار ادا کر رہے ہیں‘۔

اسی بارے میں
چلی: اچانک جھیل غائب ہوگئی
22 June, 2007 | نیٹ سائنس
ناسور کا علاج پانی سے
24 May, 2007 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد