 | | | اس گہرئی پر شارک نہیں دیکھی گئی |
سائنسدانوں نے پرتگال کے ساحل کے قریب سطح سمندر کے نیچے موجود وادی کا مشاہدہ شروع کر دیا ہے اور اب تک کئی حیران کن چیزیں سامنے آئی ہیں۔ برطانوی آئی ایس آئی ایس روبوٹ یا مشینی آبدوز کے ذریعے سائنسدان پہلی مرتبہ سمندر کی سطح سے پانچ کلو میٹر نیچے اس وادی کا مشاہدہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ وادی جو امریکہ کے گرینڈ کینین کے برابر ہے لزبن کے شمال میں نظاری کے ساحل سے شروع ہوکر مشرقی بحرِاوقیانوس میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہ وادی نقشوں پر تو موجود تھی لیکن اس سے پہلے اس کا مشاہدہ نہیں کیا گیا۔ اس مشینی آبدوز کو برطانیہ کے تحقیقاتی جہاز جیمز کک سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ اس کا کنٹرول روم جو ’اسٹار وار‘ جیسی کسی فلم کا کوئی سیٹ دکھائی دیتا ہے سائنسدانوں کی ایک ٹیم اس آبدوز کو اس وادی میں اتار رہا تھا جس کے ذریعے اس وادی کی تصاویر حاصل کی جا رہی تھیں۔ تین ہزار چھ سو میٹر کی گہرائی میں اچانک ایک شارک دکھائی دیتی ہے۔ سائنسدانوں اس پر حیرت زدہ ہوجاتے ہیں کیونکہ شارک تین ہزار میٹر سے زیادہ گہرائی میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔  | | | سائنسدان اس کے بارے میں مختلف آراء رکھتے ہیں |
اس ٹیم کی قیادت کرنے والے سائنسدان پروفیسر ڈو ماسن نے بتایا کہ سائنسدان اس بات پر اختلاف رکھتے ہیں کہ آیا اتنی گہرئی میں کوئی جگہ سمندری حیات کے بارے میں تحقیق کے لیے دلچسپی کا باعث بن سکتی ہے یا یہ کوئی سمندر کے نیچے صحرا ہے۔ انہوں نے کہا حقیقت میں یہ دونوں کا امتزاج ہے یہاں کی چٹانوں پر سمندری حیات کے آثار ہیں جبکہ بعض جگہیں صرف ٹیلے ہیں اور زندگی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ پروفیسر پال ٹیلر کے لیے جوکہ میرین بائیلوجسٹ ہیں کے لیے یہ مہم زیر زمین حیات کے بارے میں معلومات اکھٹا کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی دوسرے علاقوں میں گہرے سمندروں میں ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کر چکی ہیں وہ یہاں وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی خطہ ماحول میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔اس ٹیم کی اگلی مہم آئرلینڈ کے ساحل کے قریب وٹارڈ کینین کا مشاہدہ کرنا ہے۔ |