قطبی برف: پگھلاؤ کے غلط اندازے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ہونے والی ایک جدید تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قطب شمالی کی برف موسمیاتی تبدیلیوں کی بنیاد پر لگائے گئے موجودہ اندازوں کی نسبت زیادہ رفتار سے پگھل رہی ہے۔ اس نئی تحقیق کے مطابق انیس سو اناسی سے موسمِ گرما میں قطب شمالی کی برف نو فیصد فی دہائی کی رفتار سے پگھل رہی ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے کمپیوٹرائزڈ ماڈلز اس رفتار کو نصف سے بھی کم بتاتے ہیں۔ جدید اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ اس صدی کے نصف تک گرمیوں کے موسم میں قطب شمالی کی تمام برف پگھل جایا کرے گی۔ جیوفزیکل ریسرچ لیٹرز نامی جریدے میں شائع ہونے والی یہ تحقیق امریکہ کی کولوراڈو یونیورسٹی کے نیشنل سنو اینڈ آئس ڈیٹا سینٹر میں کی گئی ہے۔ اس میں موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے بین الملکی ادارے انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی) کے طریقۂ کار اور اس کے کمپیوٹرائزڈ ماڈلز ضرورت سے زیادہ محتاط اور حقیقت سے دور قرار دیا گیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے کمپیوٹرائزڈ ماڈلز ایک صدی سے بین الاقوامی سطح پر محفوظ کیئے گئے اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کیئے گئے ہیں تاہم 1979 کے بعد سے مواصلاتی نظام کے تحت جمع ہونے والے اعداد و شمار کو نسبتاً درست سمجھا جاتا ہے۔ نئی تحقیق میں دو مختلف ادوار میں قطب شمالی پر برف پگھلنے کے رُجہان کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ ایک دور 1953 سے 2006 تک کا ہے جبکہ دوسرا دور 1979 سے 2006 کا ہے۔
موسمیاتی ریکارڈز کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ پہلے اور لمبے دور میں قطب شمالی کی برف سات اعشاریہ آٹھ فیصد فی دہائی کی شرح سے پگھلی جبکہ دوسرے اور مختصر دور میں برف پگھلنے کی شرح نو اعشاریہ ایک فیصد فی دہائی رہی۔ یونیورسٹی آف کولوراڈو کے سائنسدانوں نے ان اعداد و شمار کا موازنہ انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی) کے زیرِ استعمال اٹھارہ مختلف کمپیوٹر ماڈلز کے ساتھ کیا جن کی مدد سے مستقبل کی موسمیاتی تبدیلیوں کے اندازے لگائے جاتے ہیں۔ اصولی طور پر کمپیوٹر ماڈلز سے حاصل کیئے گئے اعدا و شمار کو ماضی قریب کے حقیقی اعداد و شمار کے سامنے رکھ کر ان کی درستگی کا اندازہ لگایا جاتا ہے لیکن جدید تحقیق کے مطابق سرکاری اعدا و شمار حقیقت سے دور ہیں۔ آئی پی سی سی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں 1953 سے 2006 تک قطب شمالی کی برف میں دو اعشاریہ پانچ فیصد فی دہائی کی رفتار سے کمی ہوئی ہے جبکہ 1979 سے بعد کے دوسرے دور میں برف کے پگھلنے کی شرح چار اعشاریہ تین فیصد فی دہائی رہی ہے۔ تحقیق میں شامل ایک سائنسدان مارِکہ ہالینڈ کہتی ہیں کہ ان کی تحقیق کے نتائج موسمیاتی مطالعوں کے کمپیوٹرائزڈ ماڈلز تیار کرنے والوں کے لیے سبق آموز ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ موسمیاتی ماڈلز میں برف پگھلنے کی رفتار اور اس کے صحیح مقام کا تعین بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ماڈلز کئی طبیعاتی عوامل کو بھی نظرانداز کر دیتے ہیں مثلاً برف کی تہہ کے پگھلنے پر میتھین کا اخراج۔ تاہم سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ تمام ماڈلز مستقبل میں برف کے تیزی سے پھلنے کی نشاندہی کرتے ہیں‘۔ | اسی بارے میں قطبِ شمالی کی برف پگھلنے لگی30 December, 2006 | نیٹ سائنس قطب شمالی: برف میں ریکارڈ کمی 14 September, 2006 | نیٹ سائنس قطب شمالی کی برف میں کمی29 September, 2005 | نیٹ سائنس انٹارکٹیکا پگھل رہا ہے02 February, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||