جنگلی حیات کی بقاء، وسائل کی کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار جانوروں کی عالمی تجارت کے بارے میں ہونے والی عالمی کنونشن (سائٹیس) کا آخری روز مالی مسائل پر بحث کی نذر ہو گیا۔ کنونشن کے رکن ممالک نے بجٹ میں کمی کی منظوری دی جس سے جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کو روکنے کی کوششیں مشکل ہو جائیں گی۔ کنونشن کے دوران سمندری مونگوں کے زیورات پر پابندی لگانے کے لیے ایک تجویز مسترد کر دی گئی۔ اسی طرح یورپی یونین کی طرف سے ڈاگفِش کی ایک قسم کے شکار کو محدود کرنے کی نئی کوشش بھی ناکام رہی۔ کنونشن کے آخری روز ووٹنگ کا برقیاتی نظام خراب ہو گیا اور کئی ممالک کے نمائندوں کے جلدی چلے جانے کی وجہ سے وہ ووٹنگ میں حصہ نہ لے سکے۔ المختصر آخری دن بد نظمی کا شکار ہو گیا۔ کنونشن کے دوران سب سے بڑا مسئلہ جمعرات کو طے پا گیا تھا جب بر اعظم افریقہ کے جنوبی ممالک کو ایک بار ان کے پاس جمع ہاتھی دانت فروخت کرنے کی اجازت دی گئی۔ انیس سو نواسی کے بعد تیسری بار ایسا کیا گیا ہے۔
سائٹیس کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ تنظیم کو بیس فیصد زیادہ وسائل درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ڈالر میں امداد ملتی ہے لیکن اس کی قیمت میں کمی سے مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ فنڈ فراہم کرنے والے دو اہم ممالک امریکہ اور جاپان کے نمائندوں نے کہا کہ انہیں ان کی حکومتوں کی طرف سے مالی امداد میں اضافے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ جنگلی حیات کی بقاء میں دلچسپی رکھنے والوں کو سب سے زیادہ مایوسی سمندری حیات کی صورتحال پر ہوئی۔ ڈاگفِش کے علاوہ جو شارک کی قسم سرخ اور گلابی مونگوں کو بھی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگلی کنونشن تک ان مونگوں میں انتہائی کمی واقع ہو چکی ہو گی۔ یورپی یونین کے وفد کے سربراہ جرمنی کے جوخین فلاسبارتھ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں کاروباری اہمیت کی حامل اقسام کو تحفظٌ فراہم کیا جانا سیاسی کھینچا تانی کی ایک اہم وجہ ہو سکتا ہے۔ ان اقسام میں وہیل، سمندری مونگے اور کچھ مچھلیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر حیاتیاتی تنوع کے مسائل جنگلات اور سمندری علاقوں میں سامنے آتے ہیں اور ان علاقوں میں مداخلت سے کاروباری مفادات کو نقصان پہنچتا ہے۔ سائٹیس کا اگلا اجلاس تین سال بعد قطر میں ہوگا۔ ایک ایسی صورتحال میں جب اقوام متحدہ کے مطابق ہر روز ایک سو پچاس اقسام معدوم ہو رہی ہیں توقع کی جا رہی ہے کہ حیاتیاتی بقاء میں دلچسپی رکھنے والے گروپ زیادہ متحرک ہوں گے اور انہیں ان ممالک سے اتنی ہی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا جن کے کاروباری مفادات جانوروں کے شکار سے وابستہ ہیں۔ | اسی بارے میں معدوم مینڈک کی واپسی22 May, 2006 | نیٹ سائنس لاکھوں سال بعد پھر سے مِل گیا 10 March, 2006 | نیٹ سائنس زبان کا خاتمہ،بائیو ڈائیورسٹی کو خطرہ18 February, 2007 | نیٹ سائنس سمندری کچھووں کی واپسی05 April, 2005 | نیٹ سائنس ’زمین پر انسان کے مستقبل کو خطرہ‘30 March, 2005 | نیٹ سائنس سندربن: جنگل کے لیےکاروباری منصوبہ17 October, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||