لاکھوں سال بعد پھر سے مِل گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ویت نام کے شہر لاؤس میں ملنے والے گلہری جیسے جانور کا تعلق ایک ایسی نسل سے ہے جس کے بارے میں خیال تھا کہ وہ گیارہ ملین سال پہلے ختم ہو چکی ہے۔ لاؤس میں ملنے والے اس روڈنٹ یا کترنے والے جانور کے بارے میں ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ یہ گزشتہ تیس سال میں دریافت ہونے والی ممالیوں کی نئی اقسام میں سے ایک ہے۔ جانور کی کھال گہری سلیٹی رنگ کی ہے اور اس کی جسامت سرخ گلہری جتنی ہے۔ سائنسدانوں کا اب خیال ہے کہ یہ جانور دراصل ’زندہ فوصل‘ یعنی قدیم زمانے کی ایک زندہ نشانی ہے۔ کترنے والے جانوروں کی یہ قسم ماضی میں جنوب مشرقی ایشیاء اور جاپان میں پائی جاتی تھی۔ سائنس میگزین میں ایک مضمون میں اس جانور کو بچانے پر زور دیا گیا ہے۔ یہ جانور وائلڈ لائف کنزرویشن سوسائٹی کے روبرٹ ٹمنز کو لاؤس میں شکاریوں کے ایک بازار سے ملا تھا۔ دنیا بھر کے سائنسدانوں کے لیے شاید یہ جانور نیا ہے لیکن مقامی لوگ اس سے واقف تھےاور ان کی زبان میں اس کا ایک نام بھی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جانور اس جگہ سے ملا ہے جہاں پہلے بھی نئی اقسام دریافت ہو چکی ہیں جن میں چمگادڑ اور چوہے سے ملتے جلتے جانوروں کی اقسام شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی نسل کا اتنے طویل عرصے کے بعد زندہ مِل جانا غیر معمولی بات ہے۔ امریکہ کے ایک عجائب گھر کی اہلکار میر ڈاؤسن نے کہا کہ ’ایسا روز روز نہیں ہوتا‘۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی دریافت ماضی کے حیاتیاتی تنوع کے مطالعے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ | اسی بارے میں دو سروں والے کچھوے کی دریافت16 May, 2005 | نیٹ سائنس نئے جانور کی دریافت06 December, 2005 | نیٹ سائنس لوہے کے زمانے کے اجسام کی دریافت07 January, 2006 | نیٹ سائنس اندھےپن کی وجہ، دو جین دریافت 06 March, 2006 | نیٹ سائنس مشتری پر ایک اور سرخ طوفان07 March, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||