BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 January, 2006, 17:48 GMT 22:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لوہے کے زمانے کے اجسام کی دریافت
بوگ باڈیز
شمالی یورپ میں سینکڑوں بوگ باڈیز دریافت ہو چکی ہیں
ماہرین آثار قدیمہ نے آئرلینڈ سے دلدل میں دھنسی ہوئی دو لاشیں دریافت کی ہیں جن کا تعلق لوہے کے زمانے سے ہے۔

ان لاشوں میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں اور یہ کم از کم دو ہزار سال پرانی ہیں۔ خیال ہے کہ یہ لوگ قدیم رسوم کے تحت قربانی کا شکار بنے تھے۔

’بوگ باڈیز‘ میں عام طور پر جسم پر تشدد کے نشانات پائے جاتے ہیں۔ اس دریافت کی تفصیلات بی بی سی کی ’ٹائم واچ ڈاکومنٹری‘ میں بیس جنوری کو دکھائی جائیں گی۔

اس قسم کی پہلی لاش 2003 میں ڈبلن کے نزدیک ملی تھی جبکہ اسی سال دوسری لاش کروگن سے دریافت ہوئی تھی۔ ان دونوں لاشوں کے جسم نامکمل حالت میں پائے گئے تھے۔

حالیہ دریافت کے نتیجے میں پہلے پولیس کو اطلاع دی گئی لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ معاملہ آثار قدیمہ سے متعلقہ ہے۔ دونوں اجسام کو ڈبلن میں آئرلینڈ کے نیشنل میوزیم میں لے جایا گیا ہے۔

برطانیہ اور آئرلینڈ کے ماہرین کی ایک ٹیم ان اجسام کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ان کی زندگی اور موت کے بارے میں پتہ چل سکے۔ ’کاربن ڈیٹنگ‘ سے ان کی موت کے وقت کا تعین ہو سکے گا۔

شمالی یورپ میں اس قسم کی سینکڑوں لاشیں دریافت ہو چکی ہیں۔ یہ سلسلہ اٹھارہویں صدی سے جاری ہے۔ ان دلدلوں میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا لاشوں کو حنوط کر دیتے ہیں۔ اس کی وجہ سرد موسم اور دلدل میں آکسیجن کا نہ ہونا ہے جس سے بیکٹیریا نشوونما نہیں پا سکتے۔

ٹائم واچ کے پروڈیوسر جون فشر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس عمل کو ہلکی آنچ سے تشبیہ دی جاتی ہے جس سے یہ جسم گہرے براؤن رنگ کے ہو جاتے ہیں‘۔

دو ہزار تین میں کروگن سے ملنے والی لاش
اس پر موت سے پہلے سخت تشدد کیا گیا تھا

تین سال قبل کروگن سے ملنے والی لاش کے بارے میں تحقیق سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ وہ اپنی موت سے کچھ عرصہ قبل غذا میں سبزیوں کا زیادہ استعمال کر رہا تھا۔

اس کے سر پر ایک زخم تھا اور وہ لوہے کے زمانے میں استعمال ہونے والا تیل بھی سر پر لگایا کرتا تھا۔ اس کی عمر تقریباً پچیس سال تھی۔ اس پر مرنے سے قبل سخت تشدد کیا گیا تھا۔ تحقیق کاروں نے اس کے مسخ شدہ چہرے کو دوبارہ بنانے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔

آئرلینڈ کے نیشنل میوزیم کے نگران نیڈ ٹیلی کا کہنا ہے کہ ’میرا خیال ہے کہ یہ ہلاکتیں خداؤں کے سامنے قربانی پیش کر کے اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کی کوشش میں کی جاتی تھی۔ اس طرح کی زیادہ تر لاشیں اس زمانے کی شاہی زمینوں کے باہر یا قبائلی علاقوں کی سرحدوں پر پائی جاتی ہیں‘۔

مصر کا بونا خدا ’بیس‘مصر کے قدیم بونے
مصر کے لوگ بونوں کا احترام کرتے تھے
اسی بارے میں
فرعون کی موت کا معمہ
14 November, 2004 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد