فرعون کی موت کا معمہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر میں طوطن خامن نامی فرعون کی حنوط شدہ لاش کے تجزیوں سے یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ تین ہزار سال قبل اس نوجوان فرعون بادشاہ کی موت کس وجہ سے واقع ہوئی تھی۔ نومبر کے اواخر میں تجزیہ کےلیے لاش کو لگزر کی اس’شہنشاہ وادی‘ سے قاہرہ منتقل کیا جائے گا جہاں سے اسے 1922 میں دریافت کیا گیا تھا۔ مصری ماہر آثارِ قدیمہ زاہی ہواس نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’ ہم اس کی اصل عمر، اس پر موجود زخموں اور اسے لاحق بیماریوں کا پتہ لگائیں گے‘۔ یہ بات آج تک ایک معمہ ہے کہ طوطن خامن نامی فرعون بیماری کے نتیجے میں مرا تھا یا اسے قتل کیا گیا تھا۔ 1968 میں جب پہلی بار اس لاش کا کفن کھولا گیا تھا تب ایک ایکسرے سے کھوپڑی کے چٹخی ہوئی ہڈی کا پتہ چلا تھا جس کے نتیجےمیں یہ خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ اس نوجوان فرعون کو قتل کیا گیا تھا۔ لیکن دوسرے ثبوتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لڑکپن میں وفات پانے والا یہ فرعون بیمار تھا۔ طوطن خامن کی لاش کے ساتھ دریافت ہونے والے خزانے میں ایک سونے سے بنا ہوا شاندار نقاب بھی شامل ہے جسے برطانوی دریافت کنندہ ہاورڈ کارٹر نے علیحدہ کر لیا تھا اور اب وہ قاہرہ کے عجائب گھر میں زیرِ نمائش ہے۔
طوطن خامن کی لاش کو مقبرہ میں ہی چھوڑ دیا گیا تھا۔ اب مصر کے وزیرِ ثقافت فاروق حسنی نے پہلی بار طوطن خامن کی لاش کی قاہرہ کے مرکزی عجائب گھر منتقلی کے ایک منصوبہ کی منظوری دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق لاش کی باقیات کا جن میں کھوپڑی، سینے کی ہڈیاں اور دو اور ہڈیاں شامل ہیں تین طرفہ CAT سکین کیا جائے گا۔ زاہی ہواس نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’ ہمیں اس بات کا جواب مل جائے گا کہ آیا کہ فرعون قدرتی موت مرا یا کہ اسے قتل کیا گیا تھا‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||