قدیم مصری بونوں کا احترام کرتے تھے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے تحقیق کاروں کے مطابق مصر کے قدیم باشندے بونوں کو معذور نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان کی عزت کرتے تھے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی ہسپتال کی ایک ٹیم نے اس مقصد کے لیے قدیم مصر کے بونوں کی باقیات اور فنون لطیفہ کا مطالعہ کیا۔ یہ تحقیق طب کے ایک امریکی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ قدیم مصری ’بونے خداؤں‘ کی پوجا کرتے تھے اور بہت سے بونوں کو گھروں میں اہم مقام حاصل تھا۔ آج کے دور میں ڈاکٹروں نے سو سے زائد ایسی وجوہات دریافت کی ہیں جو بونے پن کا باعث بن سکتی ہیں۔ ان میں سے سب سے عام وجہ ’اکونڈروپلاسیہ‘ کی بیماری ہے جس سے اعضاء چھوٹے رہ جاتے ہیں۔ اس بیماری سے سالانہ پچیس ہزار بچے متاثر ہوتے ہیں۔ چھوٹے قد کے پچھہتر فیصد بچے درمیانے قد کے والدین کے یہاں پیدا ہوتے ہیں۔ امریکی تحقیق کاروں نے مصر کو اپنی تحقیق کا مرکز اس لیے بنایا کہ وہاں کے گرم اور خشک موسم اور مردوں کو دفنانے کے منظم طریقۂ کار کی وجہ سے کئی انسانی اجسام اور اور ان کی باقیات آج بھی صحیح حالت میں موجود ہیں۔ تحقیق کاروں نے بونوں میں عوام اور خواص دونوں کا مطالعہ کیا۔ انہیں پتہ چلا کہ بونوں کے قدیم ترین آثار 4500 قبل مسیح کے ’بداریاں دور‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جبکہ بہت سے ڈھانچے 2700 سے 2190 قبل مسیح کے درمیانی عرصہ کے ہیں۔ تحقیق کے دوران بونوں کی تصاویر مزاروں کی دیواروں، بتوں اور فن کی مختلف اشکال میں ملیں۔ کئی بونوں کی تصاویر ایک سے زائد جگہوں پر موجود تھیں جس سے تحقیق کاروں نے ان کی خصوصی معاشرتی حیثیت کا اندازہ لگایا۔ دیگر تصاویر سے پتہ چلا کہ کئی بونے گھریلو ملازمین کی حیثیت سے بھی کام کرتے تھے۔ ان میں سے بعض امراء کے یہاں کام کرتے تھے اور اس وجہ سے خصوصی مقام رکھتے تھے۔ انہیں شاہی مدفن کے قریب خاص اعزازات کے ساتھ دفنایا گیا۔ اس کے علاوہ قدیم مصر میں دو بونے خدا بھی تھے جن کے نام ’بیس‘ اور ’پتاہ‘ تھے جو انسانی زندگی کے مختلف امور کا خیال رکھتے تھے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ڈاکٹر چاہرا کوزما کا کہنا ہے کہ ’ان کے مدفن اور فنون لطیفہ میں ان کا مقام ہمیں ان کی معاشرتی حیثیت کے بارے میں بتاتا ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ’بونے قدیم مصر کی زندگی میں شامل تھے۔ ان کی روزمرہ کی زندگی کے بارے میں اکٹھی کی گئی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ معاشرے میں گھل مل گئے تھا اور ان کے چھوٹے قد کو معذوری نہیں سمجھا جاتا تھا‘۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’اس زمانے کے ادب اور اخلاقی تعلیمات میں بونوں اور دیگر معذور افراد کے لیے احترام پایا جاتا ہے‘۔ |
اسی بارے میں ’انسانی جین بنانے کا جھوٹا دعویٰ‘24 December, 2005 | نیٹ سائنس ’انسانی جین بنانے کا جھوٹا دعویٰ‘24 December, 2005 | نیٹ سائنس پاگل پن کےمریضوں میں اضافہ17 December, 2005 | نیٹ سائنس پاگل پن کےمریضوں میں اضافہ17 December, 2005 | نیٹ سائنس سردی سے بچوں میں کینسر12 December, 2005 | نیٹ سائنس سردی سے بچوں میں کینسر12 December, 2005 | نیٹ سائنس قدیم مصری بادشاہ کے چہرے کی تخلیق11 May, 2005 | نیٹ سائنس قدیم مصری بادشاہ کے چہرے کی تخلیق11 May, 2005 | نیٹ سائنس بیس کروڑ سال پرانا درخت لندن میں10 May, 2005 | نیٹ سائنس بیس کروڑ سال پرانا درخت لندن میں10 May, 2005 | نیٹ سائنس ستر لاکھ سال پرانی انسانی کھوپڑی07 April, 2005 | نیٹ سائنس ستر لاکھ سال پرانی انسانی کھوپڑی07 April, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||