قرون وسطیٰ میں کھوپڑی کا آپریشن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قرون وسطیٰ کے سرجن کھوپڑی کے پیچیدہ آپریشن کرنا جانتے تھے۔ یہ بات برطانوی علاقے یورکشائر میں آثار قدیمہ کی کھدائی کے دوران ملنے والی ایک کھوپڑی سے پتہ چلی ہے۔ سائنسی تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ یہ کھوپڑی ایک 40 سالہ کسان کی ہے جو دسویں سے بارہویں صدی کے دوران زندہ رہا ہوگا۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ اس شخص کے سر پر بہت زور کی ضرب لگی تھی اور اگر اس کے سر کی سرجری نہ کی جاتی تو شاید وہ زندہ نہ بچتا۔ کھوپڑی کی دریافت جس جگہ ہوئی وہاں سے تقریبًا 700 انسانی ڈھانچے نکالے گئے ہیں اور سائنسدان ان سب کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔ وارم پرسی نامی یہ گاؤں اب ویران پڑا ہے۔ مگر ایک زمانے میں اس میں ایک ایسی برادری رہتی تھی جس کا انحصار بھیڑیں پالنے پر تھا۔ برطانیہ میں بلیک ڈیتھ یعنی طاعون کی وبا پھیلنے کے بعد اس کی آبادی کم ہو گئی۔ کچھ لوگ اسے چھوڑ کر چلے گئے اور آہستہ آہستہ یہ بالکل خالی ہو گیا۔ جس کسان کا یہاں ذکر ہے اس کے سر میں ضرب لگنے کی وجہ سے کھوپڑی کی بائیں طرف کی ہڈیاں اندر کو دب کر ٹوٹ گئی تھیں۔ مریض کے علاج کے لیے اس کی کھوپڑی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا، اندازًا 10 سینٹی میٹر لمبا اور 9 سینٹی میٹر چوڑا، کاٹا گیا ہوگا اور دبی ہوئی ہڈیوں کے ٹکڑے نکالے گئے ہونگے۔ اس قسم کی سرجری کو ’ٹریپانی‘ کہا جاتا تھا۔ اور اس کا ذکر روم اور یونان کی پرانی دستاویزات میں ملتا ہے۔ مگر سائنسدانوں کا خیال تھا کہ اینگلو سیکسن تہذیب اس علم سے نا آشنا تھی۔ مگر اس کھوپڑی سے ثابت ہوتا ہے کہ اس زمانے میں برطانیہ میں اس قسم کی سرجری کی جا رہی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||