زبان کا خاتمہ،بائیو ڈائیورسٹی کو خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سائنسدان کا کہنا ہے کہ دنیا سے بہت سی زبانوں کے خاتمے سے ’بائیو ڈائیورسٹی‘ کے بچاؤ کو بھی خطرہ درپیش ہے۔ زبان دانوں کا خیال ہے کہ دنیا میں بولی جانے والی سات ہزار زبانوں میں سے نصف سے زائد اس صدی کے اختتام تک متروک ہو جائیں گی۔ امریکی سائنسدان ڈاکٹر ڈیوڈ ہیریسن کے مطابق ’ایکو سسٹم‘ کے بارے میں زیادہ تر معلومات تاحال زبانی روایات تک محدود ہیں۔ ایک کانفرنس سے خطاب کے دوران ڈاکٹر ڈیوڈ نے کہا کہ اگر زبانوں کو خاتمے سے بچانے کی کوشش کی جائے تو اس سے معلومات کے ضیاع کو روکا جا سکتا ہے اور جانوروں اور پودوں کی اقسام کے بارے میں معلوم کیا جا سکتا ہے جنہیں اب تک سائنسدان پہچان نہیں پائے ہیں۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ عام طور پر نظر آنے والے جانوروں اور پودوں کی اسّی فیصد اقسام کی تاحال مغربی سائنسی طریقوں سے نشاندہی نہیں کی جا سکی ہے۔ | اسی بارے میں ذہانت، ذخیرۂ الفاظ کی محتاج نہیں15 February, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||