ذہانت، ذخیرۂ الفاظ کی محتاج نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں یہ نیا سائنسی نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ سوچ کا عمل زبان کا محتاج نہیں ہے۔ یہ نئی تحقیق پروسیڈِنگز آف نیشنل اکیڈیمی آف سائنسز میں شائع ہوئی ہے۔ برطانوی محققین کی ایک ٹیم نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ مریض جو زبان کی گرامر کو سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں، میتھس یا الجبرا کے مشکل سوالوں کو بغیر کسی دقت کے حل کر سکتے ہیں۔ اس سے یہ نکتہ سامنے آیا ہے کہ الجبرا کے مسائل سلجھانے میں کارفرما منطق کا انحصار زبان اور ذخیرۂ الفاظ پر نہیں۔ اِس نئی تحقیق سے اُس سابقہ نظریہ پر زد پڑتی ہے جس کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ انسانوں میں سوچنے کا عمل جانوروں کے مقابلے میں اس لیے ترقی یافتہ ہے کہ انسان بول سکتے ہیں۔ یونیورسٹی آف شفیلڈ سے تعلق رکھنے والے محقق روزمیری وارلے کا کہنا ہے: ’ہم اس خیال کو رد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اعلیٰ فکری افعال کا انحصار زبان پر ہے۔‘ بہت سے محققین کا خیال ہے کہ انسان، جانوروں اس لیے زیادہ ذہین ہے کہ وہ زبان جانتا ہے۔ لیکن یہ نئی تحقیق اس خیال کو باطل کرتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||