’کبھی کبھار ذہنی دباؤ اچھا ہوتا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
محققین کا کہنا ہے کہ کبھی کبھار ذہنی دباؤ کا شکار ہونا امراض کے خلاف جسم کی مدافعتی قوت کو بڑھاتا ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ کہیں بحث و تکرار یا تقریر کے بعد انسان اگر تھوڑا بہت ذہنی دباؤ محسوس کرے تو اس سے اس کے جسم کی وہ قوت بڑھ جاتی ہے جو مختلف امراض کے خلاف بچاؤ میں کام آتی ہے۔ تاہم اگر کسی مستقل معذوری یا آزار کی وجہ سے دباؤ طویل عرصے پر محیط ہوجائے تو اس کے اثر الٹا ہوتا ہے اور بدن کی جراثیم کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ یہ تحقیق ڈاکٹر سوزانے سیگرسٹرام اور ڈاکٹر گریگوری مِلر کی رپورٹ میں سامنے آئی ہے جو جریدے ’سائیکولوجیکل بلیٹن‘ میں شائع ہوئی ہے۔ سائنسدانوں کا خیال رہا ہے کہ ذہنی دباؤ جسم پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ تاہم اب امریکہ اور کینیڈا کے محققین کا دعوٰی ہے کہ دباؤ کلی طور پر نقصان دہ نہیں ہے۔ انہوں نے تین سو سائنٹیفک پیپرز کا مطالعہ کیا۔ یہ پیپرز انیس ہزار افراد پر کی گئی تحقیق پر مبنی تھے۔ ذہنی دباؤ اس وقت سے انسان کے ہمراہ رہا ہے جب وہ ابھی جنگلوں میں تھا اور اسے موذی جانوروں کا خطرہ رہتا تھا۔ اس کیفیت کے نتیجہ میں اس کے جسم میں ایسی مدافعتی قوت پیدا ہوئی جو امراض اور ذہنی اذیت کے خلاف کام آنے لگی۔ لیکن اگر یہ کیفیت مسلسل رہنے لگے تو اس کا اثر برعکس ہوتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||