بے عیب ہونا، ایک عیب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کہاوت ہے کہ ’انسان عیب کے ساتھ ہے‘۔ ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ یہ کوئی ایسی بری بات بھی نہیں ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ کامل بننے یا بے عیب و بے نقص کام کرنے کی کوشش کرنے والے ذہنی دباؤ اور گھبراہٹ کی صورت میں نہ صرف اپنی صحت کے درپے ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کی زندگی بھی اجیرن بنا دیتے ہیں۔ آپ نے بعض لوگوں کو دیکھا ہوگا کہ وہ اپنے یا کسی کے کام سے کسی طور مطمئن ہی نہیں ہوتے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ اس رویہ کو ذہنی امراض کے زمرے میں رکھا جانا چاہیئے جیسا کہ انسانی رویہ کے دوسرے مسائل ہیں۔ کینیڈا میں نفسیات کے ایک پروفیسر ان ’پرفیکشنسٹ‘ یا اکملیت پسندوں کو تین درجوں میں بانٹتے ہیں۔ ایک وہ جو اپنے کام میں کوئی عیب یا نقص چھوڑنے کے قائل نہیں، دوئم وہ جو چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ بھی بغیر نقص کے کام کریں، اور تیسرے وہ ہیں جن کا اپنے بارے میں خیال ہے کہ دوسرے لوگ ان سے بے عیب کام کی توقع رکھتے ہیں۔
ٹورانٹو کی یارک یونیورسٹی کے پروفیسر گورڈن فلیٹ نے ایک پیمانہ تیار کیا ہے جس کے ذریعے کسی اکملیت پسند کے درجہ کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے لوگ نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ اعلی معیار قائم کرتے ہیں بلکہ اپنے اور دوسروں کے کام کو ہر صورت میں اس معیار سے کم تر سمجھتے ہیں۔ پروفیسر فلیٹ کا دعوٰی ہے کہ اکملیت پسندی یا بے نقص ہونے کا رجحان بعض جذباتی، جسمانی اور باہمی رشتوں میں مشکلات سے پیدا ہوتا ہے جن میں غمگینی، بھوک کا اڑ جانا، بیوی یا شوہر سے نہ نبھنا اور خودکشی پر مائل ہونا شامل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ طبی طور پر اسے باقاعدہ مرض تصور نہیں کیا جاتا تاہم اکملیت پسندی نارمل رویہ نہیں ہے۔ یہ چار سال کی عمر کے بچوں میں بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک برطانوی ماہر نفسیات ڈاکٹر پینیلوپ جانسن کہتی ہیں کہ ایک پرفیکشنیسٹ باس کے لئے کام کرنا ایک عذاب سے کم نہیں کیونکہ ایسے لوگ غیرحقیقت پسندانہ معیار بنا کر ماتحتوں کے لئے درد سر بن جاتے ہیں۔ ان کا مشورہ ہے کہ ایسے باس سے گھبرائے بغیر ان سے ان کے معیار کے حقیقت پسندانہ ہونے کے بارے میں سوال کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||