ہوبِٹ: ایک اور انسان کی دریافت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں کو ایک ایسے انسان کا پتہ چلا ہے جو آج سے صرف بارہ ہزار سال پہلے تک انڈونیشیا میں بستا تھا۔ اس نئی دریافت کے بعد سائنسدان نے ’ بگ فُٹ‘ اور’ یٹی‘ جیسے انسانوں کے بارے میں کہانیوں پر زیادہ سنجیدگی سے غور کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس نئے انسان کا، جس کو سائنسدانوں نے ہوبِٹ کا نام دیا ہے، قد صرف ایک میٹر تھا لیکن اس کے بازو اس کی جسم کے تناسب سے بڑے تھے اور اس کی کھوپڑی کا سائز ایک بڑے سنگترے جتنا تھا۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ لمبے بازوؤں کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ یہ انسان درختوں کے اوپر رہتا تھا۔ اس انسان کے بارے میں معلومات ’نیچر‘ میگزین میں شائع ہوئی ہیں۔ انڈونیشیا کے جزیرہ فلورس سے ملنے والے اس انسانی ڈھانچے اور فلورس میں ’چھوٹے انسان‘ کے بارے میں قصوں سے سائنسدان اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ بگ فٹ اور یٹی جیسے انسانی نما چیزوں کے بارے میں کہانیوں پر بھی زیادہ سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ آسٹریلیا کے آثار قدیمہ کے ماہرین کو انڈونیشیا کے جزیرے فلورس میں لینگ بوا نامی جگہ کھدائی کے دوران اس چھوٹے انسان کی ہڈیاں ملی ہیں۔ سائنسدانوں کا خیال تھا کہ یہ ڈھانچہ ایک انسانی بچے کا ہے لیکن مزید تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ وہ ایک عمر رسیدہ چھوٹے انسان کا ڈھانچہ ہے۔ اس چھوٹے انسان ہوبرٹ کو دریافت کرنے والے سائنسدانوں کی ٹیم کے ایک ممبر مائیک موروڈ کے مطابق جب ہوبرٹ کے بارے میں معلومات لیبارٹری سے واپس آئیں تو ان کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایسا انسان جو ہمارے آباء و اجداد کے ساتھ ہی رہا ہو، اس کے بارے میں ہمیں آج پتہ چل رہا ہے۔ اٹھارہ ہزار سال قبل بسنے والے اس انسان کو ’لینگ بوا ون‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے کل چھ ڈھانچے ملے ہیں۔ ہوبِٹ کے بارے میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ ایسے وقت میں فلورس میں رہا ہے جب اس جزیرے پر بڑے چوہے، بڑے کچھوے اور بڑے اژدھے بستے تھے۔ فلورس کے لوگ ان چھوٹے انسانوں کو عیبو گوگو کے نام سے پکارتے ہیں۔ مقامی کہانیوں کے مطابق ہوبِٹ ایک دوسرے کے کان میں بات کرتے تھے اور ان کی اپنی زبان تھی۔ مقامی کہانیوں کے مطابق عیبو گوگو طوطے کی طرح سیکھائی گئی باتوں کو دہرانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ مقامی کہانیوں کے مطابق عیبو گوگو چند سو سال پہلے تک زندہ تھے جب ولندیزی قبضہ گیر انڈونیشا پہنچے۔ ہوبِٹ پتھروں سے بنے آلات استعمال کرتے تھے اور وہ آگ جلانا بھی جانتے تھے۔ اس نئی انسانی دریافت نےسائنسدانوں کے ابھی تک انسانی دماغ کے بارے میں اندازوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ ابھی تک سائنسدانوں کا خیال تھا کہ انسانی ذہانت کا تعلق دماغ کے سائز سے جڑا ہوا ہے۔ ہوبِٹ جس کے دماغ کا سائز ایک بڑے سنگترے جتنا ہے کافی ذہین تھا۔ اس سے سائنسدان اس نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دماغ کے سائز کا ذہانت کے ساتھ کوئی خاص رشتہ نہیں ہے۔ سائنسدانوں کی کوشش ہے کہ وہ دریافت ہونے والے انسانی ڈھانچے کا ڈی این اے ٹیسٹ کریں گے۔ اگر ایسا ممکن ہو گیا تو پھر اس انسان کے بارے میں بہت زیادہ معلومات مل سکیں گی۔ نیچر میگزین کے ایڈیٹر کا خیال ہے کہ ہوبِٹ شاید اب انڈونیشیا کے ان جنگلوں میں زندہ ہو جہاں کوئی انسان ابھی تک نہیں جا پایا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||