دو زبانیں بولو، دماغ کو بچاؤ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک تازہ ریسرچ کے مطابق دو زبانوں کا روانی سے آنا دماغ کو نسبتاً طویل عرصے تک تیز رکھ سکتا ہے۔ کینیڈا کی یارک یونیورسٹی کے محققین نے اس سلسلے میں تیس سے اٹھاسی سال کی عمروں والے ایک سو چار افراد پر تجربات کیے۔ ان تجربات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ جن لوگوں او ایک مقابلے میں دو زبانیں روانی سے بولنے پر مہارت حاصل ہے ان کے ذہن مقابلتاً زیادہ تیز ہیں۔ سائیکولوجی اور ایجنگ یعنی نفسیات اور عمریں میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دو زبانوں پر مہارت رکھنے والوں کی ذہنی حالت عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ اتنی تیزی سے خراب نہیں ہوتی جتنے رفتار سے کہ دوسروں کی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جو لوگ کوئی ساز بجاتے ہیں، رقص کرتے ہیں یا مطالعہ کرتے ہیں ان کی ذہنی حالت بھی دوسروں کے مقابلے زیادہ دیر سے زوال پذیر ہوتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ معمے حل کرنا یا شطرنج جیسے بورڈ گیم کھیلنا بھی دہنی حالت کو تا دیر بہتر رکھنے میں مدد گار ہوتا ہے۔ یہ جدید تر تحقیقی پہلے سے موجود اس تصور کی تصدیق کرتی ہے کہ لسانی مہارت میں دماغ کے تحفظ کی صلاحیت ہوتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||