| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوچو، دماغ چھوٹا نہ ہوجائے۔۔۔
تحقیق کارو ں کا کہنا ہے کہ احساس کمتری کے شکار لوگوں کی یاداشت پر عمر کے ساتھ ساتھ باقی لوگوں کے مقابلے میں زیادہ برا اثر پڑ سکتا ہے۔ اس نئی تحقیق میں ، جسے لندن کی رائل سوسائٹی میں پیش کیا گیا، یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان لوگوں کے دماغ کے حجم میں بھی کمی آ سکتی ہے، بنسبتاً ان لوگوں کے جو اپنے آپ کے بارے میں خوش آئند خیالات رکھتے ہیں۔ کینیڈا کی میکگل یونیورٹسی کے ڈاکٹر سونیا لیوپئن نے بیانوے عمر رسیدہ افراد کا پندرہ برس تک جائزہ کیا اور ان کے دماغ کے عکس کا تجزیہ کیا۔ انہیں تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ احاس کمتری کے شکار لوگوں کے دماغ کا حجم ان لوگوں کے مقابلے میں پانچویں حصے سے بھی کم ہوتا ہے جو اپنے بارے میں اچھا سوچتے ہیں۔ ڈاکٹر لویپئن کا کہنا ہے کہ اگر ان لوگوں کے اپنے بارے میں سوچنے کے ڈھنگ میں تبدیلی لائی جا سکے تو ان کے دماغی زوال کے سلسے کو روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ’ذہنی قوت کی بازیابی ممکن ہے، پہلے سمجھا جاتا تھا کہ یہ ممکن نہیں ہے۔ جانوروں اور انسانوں پر کئے گئے تجربوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ماحول کو بہتر بنایا جائے،اور چند عناصر کو تبدیل کیا جائے، تو دماغ کی قوت و ہیئت معمول پر واپس لائی جا سکتی ہے۔‘ ڈاکٹر لیوپئن کا کہنا ہے کہ یاداشت کھو جانے کا ڈر ایک جال ہے، کیونکہ اس پریشانی سے منفی سوچ پیدا ہوتی ہے ، جس سے دماغی صحت پر مزید برا اثر پڑتا ہے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||