 | | | سائٹیز کانفرنس میں حیوانات و نباتات کے تحفظ کو بہتر کرنے پر غور کیا جائے گا |
ہالینڈ کے شہر ہیگ میں شروع ہونے والی سائٹیز یعنی کنونشن آن انٹرنیشنل ٹریڈ اِن انڈینجرڈ سپیشز کی کانفرنس میں ہاتھی اور آئیوری کی تجارت پر توجہ مرکوز رہنے کا امکان ہے۔ کانفرنس شروع ہونے سے کچھ دیر قبل ایک کمیٹی نے جنوبی افریقہ میں آئیوری (ہاتھی دانت وغیرہ) کے ذخائر میں سے محدود پیمانے پر جاپان کو برآمدات کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ کچھ افریقی ممالک آئیوری کی تجارت پر بیس سال تک پابندی لگانا چاہتے ہیں۔ ہیگ میں دو ہفتے تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں سا فش (ایک مچھلی جس کی تھوتھنی آری نما ہوتی ہے) ، صنوبر اور کورل (سمندری مونگے) کے تحفظ پر بھی زور دے گی جبکہ چین میں ٹائیگر (باگھ) کی کاروباری پیمانے پر افزائش نسل بھی زیر بحث آئے گی۔ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے بتیس برس قبل دنیا کے بیشتر ممالک نے سائٹیز پر دستخط کیے تھے۔ سائٹیز کا اجلاس ہر تین سال بعد منعقد ہوتا ہے، جس میں ان حیوانات و نباتات کی تجارت پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں جن کے ناپید ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔  | | | کورل (سمندری مونگے) کے تحفظ پر بھی بات کی جائے گی |
ہیگ میں ہونے والی سائٹیز کانفرنس میں 175 ممالک کے مندوبین کے علاوہ اقوام متحدہ کے اداروں اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندے بھی شریک ہو رہے ہیں۔ آئیوری کی تجارت کے حوالے سے دو مختلف رائے پائی جاتی ہیں۔ کینیا اور مالی آئیوری کی تجارت پر بیس سالہ پابندی چاہتے ہیں جبکہ بوٹسوانا اور نمیبیا اس کی برآمدات میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئیوری کی قانونی تجارت بڑھانے کی اجازت دی گئی تو اس کی غیرقانونی تجارت میں خاطر خواہ اضافہ ہو جائے گا۔ |