ہاتھی، شیر،گینڈے: موسم لے ڈوبے گا! | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنگلی حیات کےایک ماہر نے کہا ہے کہ ہاتھی، شیر اور گینڈے کو شکاریوں سے زیادہ بدلتے موسم سے خطرہ ہے۔ ڈاکٹر رچرڈ لیکی نے بی بی سی کو بتایا کہ عالمی حدت میں اضافہ اور ختم ہوتے ہوئے جنگلات جانوروں کی نسلیں ختم ہو سکتی ہیں۔ ڈاکٹر لیکی نے نیو یارک کے قریب سٹونی بروک یونیورسٹی میں ایک سیمینار طلب کیا ہے جہاں وہ جنگلی حیات کے بچاؤ کے لیے امداد میں اضافے کا مطالبہ کریں گے۔ ڈاکٹر لیکی کا جو کینیا میں وائلڈ لائف سروس کے سابق ڈائریکٹر ہیں کا کہنا ہے کہ جانوروں کو محفوظ کرنے کے لیے آئندہ پانچ سال کے اندر کچھ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ لاکھوں ڈالر جانوروں کے غیر قانونی شکار کو روکنے پر خرچ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا جب جانور بغیر شکار کے ہی ختم ہو رہے ہوں تو اس خرچ کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ افریقہ کے علاقے جو خشک سالی کا شکار ہیں وہ آئندہ سالوں میں مزید خشک اور گرم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کے خاتمے اور آبادی کے پھیلاؤ کے باعث جانوروں کے لیے نقل مکانی کے امکانات بھی کم ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||