 |  دنیا بھر میں نایاب نسلوں کے جانوروں خاص طور پر ٹائیگروں کی غیرقانونی تجارت پر پابندی ہے |
دنیا بھر میں جنگلوں میں رہنے والے ٹائیگروں کی سب سے زیادہ تعداد بھارت میں ہے لیکن گزشتہ چند برسوں سے ان نایاب ٹائیگروں کی تعداد میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ بھارت کے سرکاری اندازوں کی مطابق ٹائیگروں کی اس نایاب نسل کی تعداد تقریباً ساڑھے تین ہزار ہے جو ماہرین کے مطابق شاید کچھ بڑھا چڑھا کر بتائی جاتی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تیس سال پہلے بھارت کی آنجہانی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی نے جانوروں کی اس نایاب نسل کو بچانے کا جو منصوبہ شروع کیا تھا اس کے تحت ان کی تعداد میں کوئی اضافہ تو نہیں بلکہ اس کے برعکس کمی واقع ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں نایاب نسلوں کے جانوروں خاص طور پر ٹائیگروں کی غیرقانونی تجارت پر پابندی ہے لیکن اس کی کھال، ہڈیوں، دانتوں اور دیگر اعضا کی مختلف شعبوں میں اہمیت کے پیشِ نظر اس کی سمگلنگ آج تک نہیں رک پائی۔
 |  جانوروں کے اعضا فروخت ہوتے ہیں |
اقوامِ متحدہ کے نایاب جانوروں کو بچانے کے ادارے ’سائٹس‘ کے سربراہ نے بھارت کے وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کو ایک خط لکھا ہے جس میں بھارت میں ٹائیگروں کو سمگلروں سے بچانے کے کڑے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور جلد از جلد وزیرِ اعظم سے ملاقات کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے۔ سائٹس کے ایک اہلکار جان سیلر کا کہنا ہے کہ جرائم کے منظم گروہ ٹائیگروں کی کھالیں اور ہڈیاں سمگل کرتے ہیں اور اگر یہی صورتِحال برقرار رہی تو نایاب ٹائیگروں کی نسل کے یکسر ختم ہونے کا اندیشہ ہے۔ |