نیپالی گینڈے 400 سے بھی کم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی شکار کی وجہ سے ایک سینگ والے گینڈوں کی آبادی خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق نیپال میں تین محفوظ علاقوں میں گینڈوں کی تعداد سنہ دو ہزار میں چھ سو سے زیادہ کم ہو کر اب چار سو رہ گئی ہے۔ حکام کے مطابق نیپال میں ماؤ نواز باغیوں کی طرف سے جاری مسلح جدو جہد کی وجہ سے غیر قانونی شکار کو روکنا مشکل ہے۔ جنوبی ایشیا میں گینڈوں کی ایک چوتھائی آبادی نیپال میں پائی جاتی ہے۔ نیپال کے ایک سینگ والے گینڈوں کا شمار ان جانوروں میں ہوتا ہے جو دنیا میں معدوم ہونے کے خطرے سے سب سے زیادہ دو چار ہیں۔ سنہ دو ہزار کی گنتی کےمطابق اس وقت چِتون نیشنل پارک میں پانچ سو اور دو دوسرے چھوٹے پارکوں میں ایک ایک سو گینڈے موجود تھے۔ یہ تعداد ماضی کے مقابلے میں گینڈوں کی تعداد میں پچیس فیصد اضافہ ظاہر کرتی تھی۔ اب حکام کا کہنا کہ سنہ دو ہزار کے پانچ سال بعد گینڈوں کی تعداد میں پچیس فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||