ہاتھیوں نے نقالی سیکھ لی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیچر رسالے کے تازہ شمارے میں ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہاتھی کچھ آوازوں کی نقل کرنا سیکھ لیتے ہیں۔ ماہرین نے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ زمینی ممالیہ میں حیوانات رئیسہ کے علاوہ ہاتھی واحد جانور ہے جو آوازوں کی نقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ انکشاف اس وقت ہوا جب سڑک کے قریب رہنے والے ملائکا نامی ہاتھی کو ٹرکوں کی آوازیں نکالتے ہوئے سنا گیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ عام حالات میں ہاتھی آوازوں کی نقالی آپس میں رشتہ مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ دس سالہ یتیم ملائکا کینیا کے شہر ٹساوو میں رہتی ہے۔ وہ تین کلومیٹر دور نیروبی۔ممباسہ ہائی وے پر گزرنے والے ٹرکوں کی آوازیں سنتی رہتی تھی۔ ماہرین نے جب اس کی آوازوں کا تجزیہ کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ آوازیں ٹرکوں کی آوازوں سے مشابہ ہیں۔ اس طرح آوازوں کی نقالی پہلے ہی پرندوں اور سمندری میمالیہ میں دیکھی گئی ہے۔ امبوسلی ایلیفنٹ ریسرچ پروجیکٹ کے ڈاکٹر جوئس پول کا خیال ہے کہ آوازوں کی نقل تب شروع جب دو افراد کو ایک خاص ماحول میں آپس میں سماجی تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ’مثال کے طور پر یہ ممکن ہے کہ ماؤں اور بیٹیوں کی آوازیں ایک جیسی ہوں اور اس وجہ سے وہ بہت سی مختلف آوازوں میں ایک دوسرے کو پہچان سکیں۔‘ ماہرین کے لیے ہاتھیوں میں مختلف آوازوں کا استعمال نئی بات نہیں تاہم ملائکا کا آوازوں کی نقالی کا استعمال پہلے نہیں دیکھا گیا۔ ایک امریکی ماہر پیٹر ٹائک نے کہا کہ ’پرندوں، ویلز، ڈالفن اور چمگادڑ کے بارے میں تو معلوم تھا لیکن جانوروں میں آوازوں کی نقالی دلچسپ دریافت ہے۔‘ ملائکا کے بعد ماہرین نے ایک افریقی ہاتھی کالیمرو کو بھی اسی طرح کی نقالی کرتے پایا۔ کالیمرو نے زندگی کا زیادہ عرصہ سوئٹزرلینڈ کے ایک عجائب گھر میں ایشیائی ہاتھیوں کے ساتھ گزارا ہے۔ ایشیائی ہاتھیوں کی طرح کالیمرو نے بھی چہچہانا سیکھ لیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس دریافت کے بعد ہاتھیوں کے بارے میں تحقیق اور بھی دلچسپ ہوگئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||