 |  دودھ پلانے والے قدیم جانوروں کی خوراک دوسرے جانور تھے |
چین میں دریافت کیے گئے ایک نئے فوسل سے ڈائینوسارز اور دودھ پلانے والے جانوروں کے بارے میں مروجہ نظریہ پوری طرح تبدیل ہو گیا ہے۔ چین سے ملنے والے فوسل کے نمونے کا تعلق دودھ پلانے والے تیرہ کروڑ برس قدیم جانور سے ہے۔ اس فوسل کے پیٹ سے ملنے والی باقیات سے پتا چلتا ہے کہ یہ جانور چھوٹی قسم کے ڈائینوسار ’پسیٹاکوسارس‘ کھاتا تھا۔ امریکی اور چینی ماہرین پر مشتمل تحقیقی ٹیم نے نیچر نامی جریدے سے گفتگو کے دوران اس نئی دریافت کی تفصیل بتائی ہے۔ ماہرین کی ٹیم نے یہ فوسل شمال مشرقی چین میں واقع صوبہ لیاؤننگ سے دریات کیا ہے جو ایسے قدیم نمونوں کے لیے پہلے ہی خاصا مشہور ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدا میں انہیں یہ گمان گزرا کہ اس قدیم جانور کے پیٹ میں بچہ تھا لیکن تفصیلی مطالعے سے پتا چلا کہ اس کے پیٹ میں ڈائینوسار ہے۔ محققین کو صوبہ لیاؤننگ میں ایک اور قسم کے دودھ پلانے والے قدیم جانور کے نشانات بھی ملے ہیں جو تقریباً کتے کے برابر تھا۔ ان دونوں دریافتوں کے سبب یہ مروجہ خیال غلط ثابت ہوتا دکھائی دیتا ہے کہ دودھ پلانے والے جانور کمزور ہوا کرتے تھے اور کیڑے مکوڑے کھا کر پیٹ بھرتے تھے۔ |