نیپال میں گینڈے غائب ہو رہے ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں بقائے ماحول کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران ملک کے جنوب مغرب میں نایاب نسل کے درجنوں گینڈے لاپتہ ہوچکے ہیں۔ حال ہی میں بردیا کے علاقے میں واقع نیشنل پارک میں پائے جانے والے گینڈوں کی گنتی کے بعد پتہ چلا ہے کہ وہاں ان کی تعداد صرف چھبیس رہی گئی ہے۔ خیال ہے کہ چار سال پہلے وہاں تیراسی گینڈے ہوا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ چِتوان پارک میں بھی ایسی ہے صورتحال ہے جہاں سنہ دوہزار میں پانچ سو سے زیادہ گینڈے تھے اب ان کی تعداد گھٹ کر چار سو پانچ رہ گئی ہے۔ شبہ ہے کہ غائب ہونے والے گینڈے غیرقانونی شکاریوں کے ہتھے چڑھ گئے ہیں کیونکہ اس ’یک سینگے‘ گینڈے کے سینگ کو بعض لوگ قوت باہ یا جنسی طاقت کے لیے مقوی سمجھتے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق ان میں سے بہت سے گینڈے سرحد پار بھارتی علاقے میں چلے گئے ہوں گے مگر نیپال کے ایک سینیئر ماہر جنگلی حیات فانیندر کھارل اس امکان کو مسترد کرتے ہیں۔ نیپال کے ایک اخبار کانتی پور کے مطابق فانیندر کے خیال میں اس بات کا قطعی امکان نہیں ہے کہ گینڈے سرحد پار کر گئے ہیں۔ نیپال میں پائے جانے والے گینڈوں کو پچھلے دو عشروں کے دوران ملک کے وسط میں واقع چِتوان نیشنل پارک سے بردیا نیشنل پارک میں منتقل کیا جاتا رہا ہے۔ منتقلی کے اس عمل کو گینڈے کی اس نایاب نسل کی بقا کے لیے اہم خیال کیا جاتا ہے۔ حکام کہتے ہیں کہ ملک میں طویل عرصے سے جاری ماؤنواز مزاحمت کاروں نے غیرقانونی شکاریوں کو مواقع فراہم کیے کیونکہ ماؤنواز باغیوں کے حملوں کے خدشے کے پیش نظر نیشنل پارک سے سیکیورٹی چوکیاں ختم کر دی گئی تھیں۔ حکومت اور ماؤنواز باغیوں کے مابین حال ہی میں طے پانے والے سمجھوتے کے بعد اب ان علاقوں میں ایک بار پھر سے حفاظتی چوکیاں قائم کی جا رہی ہیں۔ | اسی بارے میں گینڈوں کی معدوم ہوتی نسل19 April, 2005 | آس پاس سیاہ گینڈے کی آبادی میں اضافہ24 June, 2004 | نیٹ سائنس نیپال: شاہ کے اختیارات و مراعات14 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||