نیپال: شاہ کے اختیارات و مراعات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپالی حکومت کے ایک سینیر رکن کا کہنا ہے کہ جلد ہی پارلیمنٹ میں ایک ایسی ترمیم پیش کی جانے والی ہے جس کے ذریعے بادشاہ کو بڑی حد تک اختیارات اور مراعات سے محروم کر دیا جائے گا۔ نیپال کی نئی حکومت کے وزیرخزانہ رام سرن مہت نے بتایا ہے کہ نیپال میں پارلیمنٹ کے مکمل بااختیار ہونے کااعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی تاہم یہ کہا کہ ان ترامیم ان سات جماعتوں میں زیر بحث ہیں جو حکومتی اتحاد میں شامل ہیں اور اس بحث کے بعد ہی انہیں آخری شکل حاصل ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس تجویز پر بحث جاری ہے کہ شاہی خاندان کو اپنے اثاثوں پر ٹیکس ادا کرنے کا پابند کیا جائے۔ گزشتہ ماہ کے دوران پورے ملک میں کئی ہفتوں تک شدید عوامی مظاہرے ہوئے جنہیں قابو کرنے میں ناکام ہونے پر شاہ گیانیندرہ کو دوبارہ پالیمنٹ بحال کرنا پڑی اور اس اقتدار سے بھی دستبردار ہونا پڑا جو انہوں نے حکومت کو برطرف کر کے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے تھے۔ | اسی بارے میں نیپال: حکومتی فائر بندی کااعلان 03 May, 2006 | آس پاس نیپال: نئے انتخابات کی تجویز 01 May, 2006 | آس پاس نیپال:وزیر اعظم کی امن کی اپیل30 April, 2006 | آس پاس نیپال میں چھ مظاہرین ہلاک 26 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||