نیپال: نئے انتخابات کی تجویز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال میں پارلیمان نے نئے آئین کی تشکیل جس میں بادشاہت کے کردار کا نئے سرے سے تعین کیا جا سکے انتخابات کرانے کی تجویز کی حمایت کی ہے۔ پارلیمان میں اس تجویز کی حمایت گرجا پرساد کوئیرالا کے وزیر اعظم کا عہدہ اٹھانے کے بعد کی گئی۔ شاہ گیانندرا نے گرجا پرساد کوئیرالا سے حلف لیا جس کے بعد بادشاہ کی براہراست حکومت ختم ہو گئی ہے اور اختیارات حکومت کو منتقل ہو گئے ہیں۔ پارلیمان کے انتخابات ماؤ باغیوں کا اہم مطالبہ ہے جو شاہ گیانندرا کا اقتدار ختم کرنے کے لیے مسلح جدوجہد کررہے ہیں۔ ارکانِ پارلیمان سے اپنے خطاب میں وزیر اعظم کوئیرالا نے ماؤ باغیوں سے اپیل کی کہ وہ مسلح جدوجہد ختم کرکے امن مذاکرات میں شامل ہو جائیں۔ چوراسی سالہ وزیر اعظم کوئیرالا صحت کی خرابی کی بنا پر چار گھنٹے جاری رہنے والی پارلیمان کے اجلاس کی پوری کارروائی میں نہیں بیٹھ سکے۔ پارلیمان کے ایک سینئر رکن نے ان کی جگہ پارلیمان میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں نئے انتخابات ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیئے بہت ضروری ہیں۔ تاہم نئے انتخابات کرانے کی تجویز پر باقاعدہ رائے شماری نہیں کرائی گی البتہ ارکان نے زبانی اس تجویز کی حمایت کی۔ | اسی بارے میں نیپال:وزیر اعظم کی امن کی اپیل30 April, 2006 | آس پاس شہزادے کی دیوانگی اور ملکی بحران29 April, 2006 | آس پاس نیپال: کوئیرالا نئی حکومت بنائیں گے25 April, 2006 | آس پاس کوئیرالا علیل، حلف برداری مؤخر28 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||