ناسور کا علاج پانی سے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سائسندانوں نے ’سُپر آکسیڈائزڈ‘ پانی تیار کیا ہے جس کے بارے میں ان کا دعوٰی ہے کہ اس کے استعمال سے زخم جلد بھر جاتے ہیں۔ جریدے نیوسائنٹسٹ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ذیابیطس یا شوگر کے ایسے مریضوں پر اس پانی کی آزمائش کی جا رہی ہے جن کے پیروں میں السر یا ناسور ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان مریضوں میں زخموں کا مندمل نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ آکسیڈائزڈ واٹر کا خاص جُز مائیکروسِن کہلاتا ہے جس کے سالمے برقی بار لیے ہوتے ہیں۔ یہ سالمے یا مالیکیولز آزاد رہتے ہوئے خوردبینی اجسام کے خلیوں میں داخل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ پانی صرف ان خلیوں کو ہلاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو مکمل طور پر اس کے حصار میں آجائیں۔ جبکہ انسانی جسم کے خلیے ایک دوسرے سے جڑے ہونے کے سبب اس کے تباہ کن اثر سے محفوظ رہتے ہیں۔
جب اُن مریضوں پر اس پانی کی آزمائش کی گئی جن کے پیروں میں ہٹیل قسم کے ناسور تھے اور ساتھ میں انہیں اینٹی بایوٹِک ادویات بھی دی گئیں تو یہ بات سامنے آئی کہ ان کے علاج میں تینتالیس روز لگے۔ جبکہ جن لوگوں کا روایتی طریقے سے علاج کیا گیا ان کے زخم مندمل ہونے میں پچپن دن لگے۔ ذیابیطس کے مریضوں میں پیر کے زخم، اکثر ناسور یا السر بن جاتے ہیں اور تقریباً پندرہ فی صد مریضوں میں خراب ہونے والے حصوں کو کاٹنا پڑتا ہے۔ |
اسی بارے میں شوگر کےمریضوں کیلیئے امید24 September, 2006 | نیٹ سائنس چینی جڑی بوٹی سے شوگر کا علاج13 August, 2006 | نیٹ سائنس ذیابیطس: مریضوں کے لیےخوشخبری28 January, 2006 | نیٹ سائنس السر پر تحقیق، طب کا نوبل انعام03 October, 2005 | نیٹ سائنس ذیابیطس اور موٹاپے میں تعلق18 July, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||