BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 June, 2007, 08:14 GMT 13:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’منجمد آبی ذخائر پگھل رہے ہیں‘

دریائے گلگت
سردیوں میں دریائے گلگت کا نیلگوں پانی ٹھہرا ٹھہرا سا رہتا ہے
محمد افضل کو علم ہے کہ جب گرمیوں میں گلیشیئر پگھلتے ہیں تو دریائے گلگت میں پانی بڑھ جاتا ہے، لیکن اب گرمیوں سے پہلے ہی دریا میں طغیانی کیوں آ رہی ہے؟ وجہ انہیں سمجھ نہیں آئی لیکن ماہرینِ ماحولیات کہتے ہیں عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان پر پڑنے لگے ہیں اور پہلا نشانہ گلیشیئر ہیں۔

شمالی علاقہ جات کے صدر مقام گلگت کی وادی گوپس میں دریائے گلگت کا نیلگوں اور شفاف پانی سردیوں میں بالکل ٹھہرا ہوا سا لگتا ہے۔ گرمیوں میں جب برفیلی پہاڑی چوٹیوں اور گلیشیئروں پر برف پگھلتی ہے تو خوبصورت پہاڑی وادیوں سےگزرنے والے اس دریا کا پانی پہاڑی پتھروں سے ٹکرا کر اچھلتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے آبدار موتیوں کی لڑی ٹوٹی ہو۔

مقامی اسکول کے معلم محمد افـضل کا گھر اسی چوڑے پاٹ والے دریا کے سامنے ہے۔ وہ اس دریا کو اپنے بچپن سے جانتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں ’سردیوں میں دریا کا نیلگوں پانی ٹھہرا ٹھہرا سا رہتا ہے۔ جولائی میں گرمیوں کے باعث جب گلیشیئر پگھلتے ہیں تو پانی کی مقدار بھی رفتہ رفتہ بڑھنے لگتی ہے، بہاؤ تیز ہو جاتا ہے مگر گزشتہ دو تین سالوں سے صورتِ حال بدل رہی ہے۔ جو میں نے محسوس کیا شاید مقامی لوگوں نے اس جانب توجہ ہی نہیں دی ہے‘۔

دریاؤں میں پانی کی مقدار کا بڑھ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ حدت سے شمالی پاکستان میں ہمارے منجمد آبی ذخائر پگھلنے شروع ہوگئے ہیں۔ جب تک یہ گلیشیر پگھلتے رہیں گے، تب تک تو پانی وافر ہو گا لیکن صرف دو تین دہائیوں میں صورتِ حال بدل جائے گی۔ رفتہ رفتہ دریا خشک ہونے لگیں گے اور آئندہ پچاس سالوں میں تیس تا چالیس فیصد پانی ختم ہوجائے گا اور ہمیں بڑے وسیع پیمانے پر قلتِ آب کا سامنا ہوگا‘۔

صورتِ حال میں کیا تبدیلی آئی اور کیا محسوس کیا؟ محمد افـضل کا کہنا تھا!
’میری عمر پچاس سال ہے۔ جب سے ہوش سنبھالا اس دریا کو جانتا ہوں۔ دو تین سالوں سے محسوس کررہا ہوں کہ گرمیوں سے کافی پہلے یعنی مارچ کے اختتام سے ہی دریا کا بہاؤ تیز ہونے لگتا ہے اور جب گرمیاں عروج پر پہنچتی ہیں تو شدید سیلاب کی کیفیت ہوتی ہے۔ میں نے ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ وجہ سمجھ نہیں آتی۔ مگر کچھ بات ہے تشویش کی‘۔

پاکستان کے شمالی علاقہ جات کو اس کے گلیشیئروں کی بناء پر ملک کے منجمد آبی ذخائر کہا جاتا ہے۔ یہیں سے دریائے سندھ پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ جس میں گلیشیئروں اور برف سے پگھلنے والا پانی شامل ہوتا رہتا ہے۔ یہیں دریائے گلگت سمیت مختلف چھوٹے بڑے دریا اس میں گرتے رہتے ہیں اور بالآخر اسے عظیم دریا کہلانے کے قابل بنا دیتے ہیں۔

دریائے سندھ ہی وہ دریا ہے جسے پاکستان کی ’آبی شہ رگ‘ کہا جاتا ہے اور اسی پر ملک کی ستر فیصد سے زائد زراعت کا انحصار ہے۔ حکومتِ پاکستان کے اقتصادی جائزے 2006-2005ء کے مطابق زراعت کا ملکی پیداوار میں بائیس فیصد حصہ ہے۔ اسی دریا پر ملک کی اسّی فیصد آبادی پانی کے لیے انحصار کرتی ہے۔

پاکستان کے شمالی علاقہ جات کوگلیشیئروں کی بناء پر ملک کے منجمد آبی ذخائر کہا جاتا ہے

زرعی ملک کی حیثیت سے پہچانے جانے والے پاکستان کے سب سے بڑے آبی وسیلے دریائے سندھ کے پاس چلاس کے مقام پر مجوزہ بھاشا ڈیم کے کنارے کھڑے ڈاکٹر مایور نے اپنی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا ’دو تین سال سے دریا میں بہت پانی آنے لگا ہے۔ ورنہ گزشتہ چند سال پہلے تو پانی اتنا کم ہو چلا تھا کہ یہ ایک بڑا نالہ لگنے لگا تھا‘۔ پانی زیادہ کیوں آرہا ہے؟ جواب میں آسمان کی جانب ہاتھ اٹھا کر کہا ’خدا کی مہربانی ہے‘۔

اس موقع پر مداخلت کرتے مقامی تاجرجمشید علی نے کہا ’اسلام آباد سے گلگت کے سفر میں جب بشام سے آگے نکلیں تو دریائے سندھ میں جگہ جگہ پہاڑی ڈھلوانوں سے آبشاروں کی مانند گرتا ہوا سبز مائل برف کا پانی دریائے سندھ کے گدلے پانی میں شامل ہوتے ہوئے کافی دور تک اپنا نیلگوں دائرہ بنادیتا ہے۔ پہلے جولائی اور اگست میں یہ مناظر دکھائی دیتے تھے مگر اب تو اپریل، مئی میں ہی یہ مناظر آنے لگے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے حمل کے ساتویں مہینے میں بچے نے جنم لیا ہو۔ اسی طرح اب گرمیوں سے پہلے ہی برف پگھلنے لگی ہے۔ حیرت کی بات ہے‘۔

ڈیرہ اسماعیل خان سے میانوالی کی سمت آئیں تو درمیان میں چشمہ بیراج پڑتا ہے۔ پاکستان کا ایک بڑا آبی ذخیرہ۔ سڑک کے ساتھ ساتھ میلوں دور تک بیراج ہمسفر رہتا ہے۔ چند روز قبل یہاں سےگزرتے ہوئے میرے ڈرائیورگل سید نے کہا ’پاکستان میں بہت پانی ہے۔ سامنے دیکھو بڑا سمندر ہے۔ اتنا پانی ہے حکومت کیوں کہتی ہے کہ پانی نہیں ہے۔ چار، پانچ سال پہلے میں پشاور سے جب یہاں آیا تب تو یہاں بہت خشکی تھی اب تو بند تک پانی ہے‘۔ یہ پانی کہاں سے آیا؟ گل سید کا کہنا تھا ’ دریا سے آیا اور کہاں سے‘۔

بڑے ڈیموں کی گنجائش تہہ میں مٹی بھرنے کے سبب ایک تہائی سے نصف تک کم ہو چکی ہے

محمد افضل کی الجھن، ڈاکٹر مایور کا تشکر اور گل سید ڈرائیور کا اطمینان اور جمشید علی کی حیرت۔۔۔ چار لوگ، چار زاویۂ نظر۔۔۔ درجنوں سوال۔۔۔جنہیں کراچی میں بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این کے شعبہ عالمی موسمیاتی تبدیلی، (کلائمٹ چینج) کی سربراہ صفیہ شفیق کے سامنے رکھا تو انہوں نے کہا ’زاویۂ نظر اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کا غیر محسوسانہ عمل شروع ہو چکا ہے جس کا پہلا نشانہ گلیشیئر ہیں۔ عالمی ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ بننے والے عناصر میں ہمارا کردار نہیں ہے لیکن ان کے منفی اثرات ہمارے حصے میں بھی آئیں گے۔ دریاؤں میں پانی کی مقدار کا بڑھ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ حدت سے شمالی پاکستان میں ہمارے منجمد آبی ذخائر پگھلنے شروع ہوگئے ہیں۔ جب تک یہ گلیشیر پگھلتے رہیں گے، تب تک تو پانی وافر ہو گا لیکن صرف دو تین دہائیوں میں صورتِ حال بدل جائے گی۔ رفتہ رفتہ دریا خشک ہونے لگیں گے اور آئندہ پچاس سالوں میں تیس تا چالیس فیصد پانی ختم ہوجائے گا اور ہمیں بڑے وسیع پیمانے پر قلتِ آب کا سامنا ہوگا‘۔

ماہرِ ماحولیات رفیع الحق کا کہنا ہے کہ ’عالمی موسمیاتی تبدیلی کا پہلا اشارہ دریاؤں میں پانی کی مقدار کا بڑھ جانا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کا دوسرا نشانہ زراعت اور پن بجلی گھر بنیں گے۔ جو کچھ اگلے چند عشروں میں ہوگا وہ بہت بھیانک ہوگا۔ ہمیں ابھی سے زراعت، توانائی اور دیگر شعبوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنا پڑے گا۔ ہم سنگین قلتِ آب سے دوچار ممالک میں شامل ہیں لیکن ہمارے یہاں جو بڑے ڈیم ہیں ان کی گنجائش تہہ میں مٹی بھرنے کے سبب ایک تہائی سے نصف تک کم ہوچکی ہے۔ مجوزہ بڑے ڈیموں کی تعمیر دور کی بات ہے۔ اب تو سوال مستقبل میں پانی کی دستیابی کا ہے‘۔

دریائے سندھ کو پاکستان کی ’آبی شہ رگ‘ کہا جاتا ہے

ماہرِ جنگلی حیات اور وفاقی وزارتِ ماحولیات، اسلام آباد میںمتعین ڈپٹی انسپکٹر جنرل جنگلات عبدالمناف قائم خانی کہتے ہیں ’موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے اگر شمالی پاکستان کی برف غائب ہوئی تو پھر آئندہ عشروں میں ہم متعدد نایاب اقسام کی جنگلی حیات جیسے برفانی ریچھ اور برفانی تیندوے وغیرہ سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوسکتے ہیں۔ یہ وہ حیاتیاتی انواع ہیں جن کی بقاء برف سے وابستہ ہے اور پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں انہیں بقاء کو لاحق شدید خطرات سے دوچار جنگلی حیات قراردیا جا چکا ہے‘۔

ماحولیاتی ابلاغ کے ماہر حسن رضوی کا کہنا ہے ’عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پاکستان متعدد عالمی معاہدات پر دستخط کرچکا ہے۔ نیز خفاظتی اقدامات بھی کیے جارہے ہیں البتہ ان کی نوعیت نہایت ابتدائی ہے۔ یہ بات افسوسناک ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں ابھی ہمارے یہاں یہ موضوع عوامی بحث نہیں بنا ہے جس کی وجہ سے عام لوگ آنے والے خطرے سے بے خبر ہیں۔ ہمیں ان کی آگاہی کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں، آخر میں ایک عام آدمی ہی عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے ستم جھیلے گا، تو کیوں نہ ہم اسے آگاہ کریں تاکہ جو بھی تدارکی اقدامات ہوں، ان میں وہ بھی اپنی بقاء کے نام پر شریک ہو‘۔

انڈیا مون سونپانی ہے تو بقاء ورنہ۔۔۔
بھارت: ماحولیاتی تبدیلی اور پانی کے پنپتے مسائل
انڈیا مون سوندلی میں چار گنا بارش
یہ تبدیلیاں گلوبل ورامنگ کے سبب ہیں
قطب شمالیبرف میں ریکارڈ کمی
قطب شمالی کی برف میں ریکارڈ کمی
انسان اور تبدیلیاں
انسان خود بھی آب و ہوا کی تبدیلی پر اثر انداز
پانی کی عالمی قلت
امیر ممالک کے پانی کے ذخائر میں کمی: رپورٹ
ماحول کو خطرہ ہے
سیلاب اور خشک سالی بڑھے گی: سروے
پانی دور سے لے کر آنا پڑتا ہےپانی کا مسئلہ
’پانی حکومت دے، نجی شعبہ نہیں‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد