گلوبل وارمنگ: دلی کا بدلتا موسم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس سال مئی کے مہینے میں دلی میں پہلے کے نسبت چار گناہ زیادہ بارش ہوئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق یہ تبدیلی مغربی ہواؤں میں تغیر یا ’ویسٹرن ڈسٹربنس‘ کے سبب ہوئی ہے لیکن بعض ماہرین کے مطابق موسم میں ایسی تبدیلیاں گلوبل ورامنگ کے سبب ہو رہی ہیں۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ماحولیات کے پروفیسر اے ایل رامو ناتھن کہتے ہیں کہ یوں تو گلوبل وارمنگ کے اثرات روز مرہ کی زندگی پر پڑ رہے ہیں لیکن موسم سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ ’مئی میں اس قدر بارش سبھی کے لیے ایک نئی بات ہے۔ یہ درست ہے کہ اس تبدیلی میں گلوبل وارمنگ کا اہم رول ہے تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ زیادہ رول کس کا ہے، ویسٹرن ڈسٹربنس کا یا گلوبل وارمنگ کا، اس پر متضاد دعوے ہیں اور تحقیق جاری ہے‘۔ پرفیسر رامو ناتھن کے مطابق ماحولیات کی تبدیلی سے ہمالیائی گلیشیر تیزی سے پگھل ر ہے ہیں جس کے اثرات دریاؤں میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ بقول ان کے اس کا زیادہ اثر، فضائی آلودگی اور پانی پر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق ’دلی اور اس کے آس پاس بلکہ شمالی ہند کے بیشتر علاقوں میں پانی کی سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے، فضائی آلودگی پہلے سے کہیں زیادہ ہے، آندھیاں، اولے، سردی، بےموسم کی بارش اور سیلاب کے علاقے بھی بدل رہے ہیں‘۔ گوبل وارمنگ پر بھارت میں گہری تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں ماحولیات کے موضوع پر پارلیمان میں بحث کے دوران کئی ارکان نے اس پر فوری توجہ دینے پر زور دیا تھا۔ سابق مرکزی وزیر مینکا گاندھی کا کہنا تھا کہ ’بیس فیصد مشکل میں ہم پہلے پھنس چکے ہیں اور اگر اس کے لیے پالیسیوں میں تبدیلی نہ کی گئی تو پھر ماحولیات کی تبدیلی سے پیدا ہونے والے مسائل سے نکلنا مشکل ہو جائے گا‘۔
محترمہ گاندھی نے مختلف ماحولیاتی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بھارت کے بیشتر ساحلی علاقے ختم ہو رہے ہیں، سندر بن کے بیشتر جزائر مٹ چکے ہیں جس سے ساحل پر بسے لاکھوں لوگ دوسرے علاقوں کو نقل مکانی کر رہے ہیں، شہد کی مکھیاں اور تتلیاں تقریباً ختم ہو چکی ہیں اور یہ سب آئندہ چند برسوں میں اتنی تیزی سے ہوگا کہ قدرتی وسائل پر قبضہ کے لیے جنگ شروع ہو جائے گی‘۔ مینکا گاندھی کا کہنا تھا کہ اب وقت آپہنچا ہے کہ پودے لگانے کی مہم شروع ہو، پرانی گاڑیاں ہٹائی جائیں اور کھیت اور جنگلات کے جلانے پر پابندی عائد کر دی جائے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جرمنی کی جی آٹھ کانفرنس بھی اس کے لیے اس لحاظ سے زیادہ اہم کہ اس میں ماحولیات کے معاملے کو اہمیت دی جائےگی۔ خارجہ سکریٹری شیو شنکر مینن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’ملک کی اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ یہ ترقی ماحولیات فرینڈلی ہو تاکہ شہریوں پر اس کے مثبت اثرات پڑیں اور بھارتی وفد جرمنی میں اس بات پر زیادہ توجہ دےگا‘۔ ماہرین کے مطابق گلوبل وارمنگ سے بھارت کے بیشتر علاقے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس میں پانی کا مسئلہ سب سے اہم ہے۔ دلی میں دریائے جمنا جو لال قعلہ کو چار چاند لگاتا تھا اب ایک نالا بن چکا ہے۔ دلی اور قرب و جوار کے بیشتر جھیلیں
ماہرین کے مطابق اس پر قابو پانے کے لیے لوگوں میں بیداری بہت ضروری ہے۔ پروفیسر رامو ناتھن کہتے ہیں کہ ’اس کی روک تھام کے لیے ہر فرد کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے، ناخواندہ لوگوں کو بھی یہ سمجھایا جا سکتا ہے کہ کن چیزوں سے ان کا ماحول خراب ہورہا ہے چونکہ زیادہ تر آلودگی عوام کے ذریعے پھیلتی ہے اس لیے بغیر بیداری کے اس پر قابو پانا مشکل ہے‘۔ |
اسی بارے میں راجستھان: سیلاب سے سو افراد ہلاک02 September, 2006 | انڈیا گجرات میں سیلاب کا خطرہ16 August, 2006 | انڈیا سیلاب: صورتحال تشویشناک10 August, 2006 | انڈیا مون سون: دیہات زیرِ آب، 11 ہلاک05 July, 2006 | انڈیا جنوب بھارت میں طوفان اور بارشیں 28 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||