’پانی دینا حکومت کی ذمہ داری ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پانی فراہم کرنے کی ذمہ داری نجی کمپنیوں کی نہیں بلکہ حکومت کی ہی ہونی چاہیے۔ یہ بات ترقیاتی تنظیم ’ورلڈ ڈیولپمنٹ موومنٹ‘ کی نئی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ ’پائپ ڈریمز‘ نامی رپورٹ اقوام متحدہ کے پانی کے عالمی دن سے عین پہلے شائع ہوئی ہے۔ اس تنظیم یعنی ڈبل یو ڈی ایم کے پیٹر ہارڈسٹاف کہتے ہیں کہ ’نجی کمپنیاں تو صرف ادھر سرمایہ لگاتی ہیں جہاں انہیں زیادہ منافع کا امکان ہو، وہ یہ نہیں دیکھتیں کہ ضرورت سب سے زیادہ کہاں ہے۔‘ اس کے بر عکس تیس غیر سرکاری تنظیمو پر مشتمل ’سسٹینابل ڈیولپمنٹ نیٹورک‘ نے پچھلے ہفتے کہا تھے کہ آزاد منڈی کے ہونے سے پانی فراہم کرنے کا نظام بہتر ہوتا ہے۔ لیکن ڈبل یوڈی ایم کو اس دعوے سے اتفاق نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نجی شعبہ بار بار اپنے وعدوں پر پورا نہ اتر سکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر سرمایہ کاری کو دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ نجی کمپنیاں ان علاقوں پر توجہ نہیں دیتیں جہاں پانی کی ضرورت سب سے زیادہ ہو۔ پیٹر ہارڈسٹاف کہتے ہیں کہ ’پانی میں نجی سرمایہ کاری کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ افریقہ کی صحرائی علاقوں اور جنوبی ایشیا میں ہوا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق افریقہ کا ’سب صحارا‘ وہ علاقہ ہے جس کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ وہاں پانی کی سروسز میں سرمایہ لگایا جائے۔ اس رپورٹ پر پبلِک سروسز انٹرنیشنل کے ڈیوڈ بوئز کہتے ہیں کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پانی کے تقسیم کے نظام کی ذمہ داری نجی کمپنیوں کونہیں سونپی جا سکتی، اور یہ ذمہ داری حکومتوں کو ہی لینی چاہئے۔ |
اسی بارے میں پانی بچائیں گوشت کم کھائیں15 August, 2004 | نیٹ سائنس پانی سے بجلی پیدا کرنے کا نیا طریقہ20 October, 2003 | نیٹ سائنس آلودہ پانی سے تین سو افراد بیمار16 September, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||