’پانی ہے تو ماحول کی بقاء ورنہ اجاڑ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرہ ارض پرگرمی میں اضافے اور ماحولیات کی تبدیلی کے اثرات ہندوستان کی روزمرہ کی زندگی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں بھارت کو ماحولیات کی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ جیسے بڑے چیلجز کا سامنا ہوگا جس میں پانی جیسا بنیادی مسئلہ سب سے اہم ہے۔ کالیکٹ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر سید اقبال حسنین نے بھارت میں پانی کے مسائل اور گلیشیئرز پر کافی کام کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بھارت میں گلوبل وارمنگ کا اثر یوں تو روزمرہ کی زندگی میں دیکھا جاسکتا ہے لیکن سب سے نمایاں پانی پر پڑ نے والا اثر ہے۔ ان کے مطابق ’درجہ حرات میں اضافہ سے علاقائی موسم کے نقشے کے ساتھ مون سون کا پیٹرن بھی بدل گيا ہے،اس تبدیلی سے آبی وسائل متاثر ہوئے ہیں جس سے پینے کا پانی اور آب پاشی کا نظام درہم برہم ہو رہا ہے‘۔ اقبال حسنین کے مطابق بھارت میں پانی کا زیادہ مسئلہ شمالی اور مرکزی علاقے میں ہے۔ بقول ان کے جنوب میں ساحل ہیں اس لیے بارش ہوتی ہے لیکن شمالی خطوں میں پانی کا زیادہ انحصار گلیشیئرز کے پگھلنے پر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انڈس اورگنگا جیسے دریاؤں کا سّتر سے اسّی فیصد پانی برف پگھلنے سے آتا ہے۔ پروفیسر حسنین کہتے ہیں کہ حدت میں اضافہ سے ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔’گزشتہ ایک عشرے سے گلوبل وارمنگ کے سبب برف بہت تیزی سے پگھل رہی ہے، پانی آتا بھی خوب ہے لیکن انتظام نہ ہونے کے سبب یہ بیشتر آلودہ ہوجاتا ہے اور اسے روکنے کا کوئی سسٹم نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ یہ پانی وہاں سے کب تک آئےگا۔ یہی حال رہا تو چند برس بعد بالکل سوکھا پڑنے لگے گا‘۔
انہوں نے کہا ’شمالی ہند میں جون کے وسط تک بارش پہنچ جاتی تھی لیکن اب یہ اگست ستمبر تک آتی ہے، اس بار کشمیر اور شملہ میں برف مارچ، اپریل میں پڑی ہے جبکہ یہ نومبر، دسمبر ہوتا تھا، اس تبدیلی سے زراعت بہت متاثر ہوئی ہے اور اس سے کئی طرح کی بیماریاں بھی جنم لے رہی ہیں‘۔ ریاست راجستھان کا بیشتر حصہ ریگستانی ہے جہاں پانی ابتداء ہی سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ اس ریاست میں آبی وسائل کا انتظام کرنے کے لیے راجندر سنگھ کو میگسیسے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ مسٹر سنگھ کہتے ہیں کہ بھارت میں پانی کا مسئلہ دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ ’دریاؤں کے آس پاس صنعتوں کے قیام سے بہت بھیانک آلودگی پھیلی ہے، جو ندیاں پینے کا پانی دیتی تھیں اب نہانے کے لائق نہیں ہیں، زمین کے نیچے کا پانی ہو یا اوپرکا سب آلودہ ہوچکاہے اس پر توجہ کی ضرورت ہے ورنہ قابو پانا مشکل ہو جائےگا۔‘ راجندر سنگھ کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے پانی کی قلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پانی کے لیے گاؤں، شہروں اور ریاستوں کے درمیان جھگڑے شروع ہوگئے ہیں۔’یہ صورت حال زراعت، صنعت کے لیے تشویش ناک ہے، پانی کی کمی سے زمین بنجر ہوگئی ہے اور جگہ جگہ دراڑیں پڑتی جارہی ہیں، پانی ہریالی، ترقی اور خوشحالی کی علامت ہے اور اگر وہ ہے تو ماحولیات کی بقا ہے اور نہیں تو اجاڑ ہے‘۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ماحولیات کے پروفیسر رامو ناتھن کے مطابق بھارت میں پانی کا انتظام صحیح نہیں ہے اس لیے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔’تھوڑی بہت جو بارش ہوتی بھی ہے اس پانی کو جمع کرنے کا انتظام نہیں ہے اب پانی کی سطح اتنی تیزی سے نیچے جارہی ہے کہ بعض علاقوں میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا ہے‘۔ رامو ناتھن کے مطابق جن شہری یا صنعتی علاقوں میں زمینی پانی دستیاب ہے وہ اتنا زیادہ آلودہ ہے کہ اسے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ بقول ان کے کئی علاقوں میں لوگ ایسا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں ہیں جس سے طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ بھارت میں اقتصادی ترقی تیزی سے جاری ہے لیکن اس کے ساتھ ہی بہت سے نئے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ جس تیزی سے ملک کی آبادی بڑھ رہی ہے اسی حساب سے کھیتی کی پیداوار میں کمی آ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحولیات کی تبدیلی سے پنپتے مسائل میں پانی کا مسئلہ بھارت کے لیے ایک چیلنج ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ |
اسی بارے میں گجرات میں سیلاب کا خطرہ16 August, 2006 | انڈیا سیلاب: صورتحال تشویشناک10 August, 2006 | انڈیا مون سون: دیہات زیرِ آب، 11 ہلاک05 July, 2006 | انڈیا جنوب بھارت میں طوفان اور بارشیں 28 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||