مونگوں کے ماند پڑتے رنگوں میں جان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی کوئینز لینڈ میں حالیہ مونسون بارشیں آسٹریلیا میں موجود سب سے بڑے بیریئر ریف یا مونگے کی چٹان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی ہیں۔ آسٹریلیا میں موسمیاتی تغیر سے وہاں کے سمندروں کا درجہ حرارت گھٹ گیا ہے اور گزشتہ پانچ برس کے دوران سب سے کم درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گرتی ہوئی حرارت مونگے کی چٹانوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ گرمیوں میں عموماً سورج کی تیز شعاعیں اور حرارت مونگوں کا رنگ اڑا دیتی ہیں۔ آسٹریلیا کا گریٹ بیریئر ریف دنیا کا ’سب سے بڑا جاندار‘ تصور کیا جاتا ہے اور اس کا حجم 345 ہزار کلو میٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سمندری حیات کے لیے بھی یہ جگہ محفوظ ترین ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے ہونے والی گلوبل وارمنگ، بڑھتی آلودگی اور ماہی گیری کا زور پکڑتا رجحان سمندری حیات کے لیے خطرہ ثابت ہورہا ہے۔ سائنسدانوں کی پیشن گوئی تھی کہ اس سال کا موسم گرما مونگوں کے لیے سخت ترین ثابت ہوگا۔ ان کا خیال تھا کہ تیز درجہ حرارت مونگوں کو جلا دے گا۔ تاہم حالیہ طوفانوں اور موسلا دھار بارشوں نے ماہرین کی آراء کو غلط ثابت کردیا ہے۔ خطے کے عمومی طور پر گرم رہنے والے سمندر کچھ ٹھنڈے ہوگئے ہیں۔ آسٹریلیا کی گریٹ بیریئر ریف میرین پارک اتھارٹی کے مطابق 1998 اور 2002 کی نسبت اس سال کی گرمی مونگوں کے رنگ کو اڑانے کے لیے ناکافی ہے۔ تاہم ادارے کا خیال ہے کہ مستقبل کے موسمیاتی تغیرات کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ مارین کے مطابق اگر کرہ ارض کا درجۂ حرارت موجودہ رفتار سے بڑھتا رہا تو مونگوں کے پھیکے پڑتے رنگ ایک روز مرہ کا عمل بن جائے گا۔ گرمی سے مونگے موت کا شکار ہوسکتے ہیں اور یوں مونگوں کی چٹان ایک بے رنگ تودہ دکھائی دے گی۔ گریٹ بیریئر ریف میں 1500 اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں۔ مونگوں کی یہ چٹان زممین کا وہ واحد جاندار ہے جو اپنے حجم کے باعث خلا سے بغیر دوربین کے دیکھا جاسکتا ہے۔ | اسی بارے میں عظیم سمندری مونگے کو بڑا خطرہ22 February, 2004 | نیٹ سائنس زیر آب رنگ برنگی دنیا خطرے میں 02 February, 2005 | نیٹ سائنس وھیل شارک کی زندگی کے راز25 September, 2005 | نیٹ سائنس بحر الکاہل جزائر، بچاؤ کی مہم29 March, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||