BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 March, 2006, 07:14 GMT 12:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بحر الکاہل جزائر، بچاؤ کی مہم
 بحر الکاہل کے جزائر
دنیا میں جانوروں اور پرندوں کی نسلوں کے خاتمے کے واقعات میں آدھے بحر الکاہل کے انہی جزائر پر ہوئے ہیں
بحرِ الکاہل کے جزائر پر موجود جنگلی حیات کے بچاؤ کے لیئے ایک بڑی مہم شروع کر دی گئی ہے۔

اس مہم میں اس سمندر کے ایک تہائی پانیوں اور مکرونیسیا کے زمینی علاقے کے پانچویں حصے کو بچانے کا عہد کیا گیا ہے۔ اس مہم کا اعلان دنیا میں حیاتیاتی تنوع کے بچاؤ سے متعلق اقوامِ متحدہ کے اجلاس سے قبل کیا گیا ہے۔

اس مہم کا آغاز صرف بیس ہزار نفوس پر مشتمل ایک نہایت چھوٹے سے ملک پلاؤ کے صدر نے کیا ہے۔ اور اس کا مقصد 2020 تک میکرونیسیا کے علاقے میں تیس فیصد سمندری حیات اور بیس فیصد زمینی ’ایکو سسٹم‘ کا بچاؤ شامل ہے۔

اس مہم کے لیئے اب تک اٹھارہ ملین ڈالر مختص کیے جا چکے ہیں۔ اس مہم کے نتیجے میں پرتگال کے رقبے سے دوگنا علاقہ محفوظ کیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں آٹھ’ کورل‘ جزائر پر مشتمل ’جزائر فینکس‘ میں انسانی سرگرمیوں کی روک تھام کی جائے گی۔

مہم کا مقصد 2020 تک میکرونیسیا کے علاقے میں تیس فیصد سمندری حیات اور بیس فیصد زمینی ’ایکو سسٹم‘ کا بچاؤ شامل ہے۔

سائنسدان پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ ڈائنوسارز کے خاتمے کے بعد سے زمین پر موجود حیاتیاتی تنوع میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے۔ اس تنوع کو برقرار رکھنے کے لیئے ایک علیحدہ پروگرام کے تحت بحر الکاہل کے جزیرے کیریباتی پر ایک بہت بڑا سمندری پارک بنایا جا رہا ہے تاکہ وہاں موجود ’ کورل ایکو سسٹم‘ کو پچایا جا سکے۔

بحرالکاہل کے جزائر پر دنیا بھر کے جانوروں اور پرندوں کی نسلیں غیر متناسب تعداد میں پائی جاتی ہیں کیونکہ لاکھوں برس تک ان جزائر کے دریافت نہ ہونے سے وہاں ارتقاء کے علیحدہ طریقے پائے جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر سفید چھاتی والا کاگو پرندوں کی ایک مخصوص نسل کا واحد رکن ہے اور صرف نیو سیلیڈونیا کے جزیرے پر پایا جاتا ہے۔

دنیا بھر کے پودوں کی سولہ فیصد اقسام ان جزیروں پر پیدا ہوئی ہیں اور ان جزائر کے پانیوں میں سیارۂ زمین پر موجود سمندری مخلوق کی نصف سے زیادہ پائی جاتی ہے۔

باقی دنیا سے الگ تھلگ رہنے کی وجہ سے ان جزائر پر موجود جنگلی حیات کو خطرہ لاحق ہے کیونکہ کسی چھوٹے سے علاقے میں ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ان جانوروں، پرندوں اور سمندری حیات کی ایک پوری قسم ختم ہو سکتی ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں جانوروں، پرندوں اور سمندری حیات کی ایک پوری قسم ختم ہو سکتی ہے۔

اب تک دنیا میں جانوروں اور پرندوں کی نسلوں کے خاتمے کے واقعات میں آدھے بحر الکاہل کے انہی جزائر پر ہوئے ہیں جن میں جزایر ماریشش سے ڈوڈو نامی پرندے کی نسل کا خاتمہ بھی شامل ہے۔

ان جزائر کو لاحق حالیہ خطرات میں جنگلات کی کٹائی، بے پناہ ماہی گیری اور مونگے کی ان کھاڑیوں کی مزید تباہی شامل ہیں جن میں سے تیس فیصد کو پہلے بہت زیادہ نقصان پہنچ چکا ہے۔

اسی بارے میں
مستقبل کا دھندلا افق
14 December, 2004 | نیٹ سائنس
نئی نسل کی مچھلیاں دریافت
08 August, 2004 | نیٹ سائنس
عظیم سمندری مونگے کو بڑا خطرہ
22 February, 2004 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد