چین: ہر ہفتے میں دو کارخانے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کی وزارت خارجہ میں آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق شعبے کے سربراہ جان ایشٹن کا کہنا ہے چین ہر ہفتے بجلی پیدا کرنے والے دو کارخانے لگا رہا ہے۔ جان ایشٹن کا کہنا ہے کہ فضا میں بڑھتی ہوئی کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کی شرح کا ذمہ دار چین کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ملکوں کو کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کے اخراج کو کم کرنے کے بارے میں دنیا کے دوسرے ملکوں کے لیے مثال قائم کرنا ہوگی۔ جان ایشٹن کا یہ بیان ہالینڈ کے ایک تحقیقاتی ادارے کی اس رپورٹ کے ساتھ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کے اخراج میں چین نے امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ چین کے سی او ٹو کے اخراج میں گزشتہ سال نو فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ امریکہ میں صرف ایک اعشاریہ چار فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ چین کے حالیہ دورے کے بعد جان ایشٹن نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کو ہمیں اس بات پر قائل کرنا پڑے گا کہ اقتصادی خوشحال سے زیادہ ضروری دنیا کی آب و ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرہ ارض کے ماحول میں موجود مضر گیسوں کی موجودگی کے ذمہ دار ترقی یافتہ ملک ہیں جنہوں نے آب و ہوا کی پرواہ کیئے بغیر صنعتی ترقی کی اور اس کا مطلب ہے کہ اب انہیں اپنی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیے۔ ایشٹن نے کہا کہ چین کو اپنی آب و ہوا کی حکمت عملی تیار کرنی ہوگی تاکہ وہ مضر گیس کے اخراج کو کم کرکے توانائی کا بہترطورپر استعمال کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کی صنعتی ترقی کا زیادہ تر انحصار مغرب میں موجود چینی اشیاء کے خریداروں پر ہے اور چین میں فی کس گیسوں کا اخراج اب بھی مغربی ملکوں کے تناسب سے کم ہے۔ ایک انداز کےمطابق ایک چینی کے مقابلے میں ایک عام امریکی تین سے چار گنا زیادہ ماحول کو آلودہ کرتا ہے۔ برطانیہ میں بعض ناقدین کا کہنا ہےکہ برطانیہ میں کیوں ایک عام شہری اپنی بتیاں بجھا دے، گھروں میں سنٹرل ہیٹنگ کم کرے اور پروازوں کو کم کیا جائے جبکہ چین میں گیسوں کا اخراج اس رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ گرین پیس تنظیم کے ڈائریکٹر جان سوان کا کہنا ہے کہ چین کے بڑھتے ہوئے اخراج کی ذمہ داری صرف بیجنگ پر عائد نہیں ہوتی ہے بلکہ واشنگٹن، برسلز اور ٹوکیوبھی اس کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حقیقت سے آنکھیں بند نہیں کرنی چاہیں کہ اوسطً ایک چینی تین اعشاریہ پانچ ٹن سی او ٹو گیس کے اخراج کا ذمہ دار ہے جبکہ ایک برطانوی دس ٹن اور ایک امریکی بیس ٹن گیس سے فضا کو آلودہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ مغرب نے اپنی بہت سے صنعتیں بھی چین منتقل کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ آب و ہوا کے بارے میں کوئی شرط عائد نہیں کی گئی تھی اور مغربی ملکوں کے صنعت کاروں صرف سستے مزدوروں میں دلچسپی رکھتے تھے۔ اس سے صنعتی پیداوار کی قیمت تو کمی رہی لیکن گیسوں کے اخراج میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||