بھنگ سے متاثرہ مریضوں میں اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اعداد و شمار کے مطابق بھنگ پینے سے پیدا ہونے والے ذہنی امراض کے علاج کے لیے لیبر دور حکومت میں پچاسی فی صد زیادہ لوگ ہسپتالوں میں داخل ہوئے۔ صحت کے امور کے لیے حزب اختلاف کے رکن پارلیمان اینڈرو لینزلے نے انکشاف کیا ہے کہ انیس سو چھیانوے ستانوے میں پانچ سو دس مریضوں کو ہسپتالوں میں داخل کیا گیا تھا جبکہ دو ہزار پانچ چھ میں یہ تعداد نو سو چھیالیس تک جا پہنچی۔ صرف پچھلے برسوں میں اس تعداد میں پینسٹھ فی صد اضافہ ہوا جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تو اصل تعداد کا عشر عشیر بھی نہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بھنگ کے معاملے میں اس کی پالیسی واضح ہے اور وہ اسے غیرقانونی نشہ سمجھتی ہے جس پر پابندی ہونی چاہئے۔ بھنگ برطانیہ میں غیرقانونی منشیات میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا نشہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں بیس لاکھ سے زیادہ افراد اس کے عادی ہیں۔ ہسپتال پہنچنے والے مریض مختلف نوعیت کے ذہنی امراض کا شکار ہوتے ہیں جس کا سبب بھنگ کا استعمال ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک مریض کئی بار ہسپتال گیا ہو۔ تاہم ماہرین کا کہناہےکہ ہوسکتا ہے کئی دوسرے ذہنی مریضوں کی بیماری کا سبب بھی بھنگ کا استعمال ہی رہا ہے البتہ اس کے بارے میں محکمۂ صحت کے حکام کو پتہ نہ چلا ہو۔ لندن میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف سائکیاٹری اور رائل کالج آف سائکیاٹرِسٹس کے کے رکن پروفیسر رابن مارٹِن کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھنگ پینے سے پیدا ہونے والے ذہنی مسائل میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن مریضوں کی یادداشت ختم ہوجاتی میں سے تقریباً دس فیصد ایسے ہیں جن میں اس کا سبب کسی نہ کسی طور بھنگ کے استعمال سے جڑتا ہے۔ |
اسی بارے میں ’پوست سکیورٹی اشو ہے‘06 March, 2007 | آس پاس بھنگ میں چھُپے طالبان جنگجو15 October, 2006 | آس پاس پوست: یورپ کی مانگ، افغانستان کی پیداوار26 June, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||