کشمیر: بھنگ کی کاشت میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر میں چرس سازی کے لیے درکار بھنگ کے کھیتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت تقریبا چھ ہزار ایکڑ پر بھنگ کی کاشت کی جا رہی ہے۔ اس سے تیار کی جانے والی چرس ملک کی دوسری ریاستوں کو سمگل کی جاتی ہے۔ انتظامیہ اس پر قابو پانے کی کوشش کرتی ہے لیکن وادی میں انتہا پسندی کے سبب وہ موثر کارروائی کرنے سے قاصر رہی ہے۔ وادی کشمیر میں بھنگ کاشت کرنے کی شروعات بنجر زمینوں سے ہوئی تھی کیونکہ ایسی زمینوں کی آبپاشی مشکل ہوتی ہے اس لیے وہاں لوگ بھنگ کاشت کرتے ہیں کیونکہ اس کی فصل باآسانی ہو جاتی ہے لیکن اب یہ دھان کے کھیتوں میں بھی اگائی جاتی ہے اور زیادا پیداوار کے لیے کسان کھاد کا بھی استعمال کرتے ہیں۔ ہندوستان میں نشہ آور اشیاء کی خرید و فروخت پر سخت پابندی ہے لیکن کشمیر کی بھنگ سے کشمیر ہی میں تیار کی جانے والی چرس اندرون اور بیرونِ ملک سمگل کی جاتی ہے۔ نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے علاقائی ڈائریکٹر شری کانت جادھو کا کہنا ہے کہ وادی میں انتہا پسندی کے سبب اس پر قابو پانا مشکل ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ کشمیر میں حالات ہی ایسے ہیں جن کے سبب بھنگ کی کاشت بڑھی ہے۔ وادی میں حرکت برائے نام ہےاور لوگ ہمیں اطلاع دینے سے بھی ڈرتے ہیں‘ لیکن مسٹر جادھو کا کہنا تھا کہ اگر انتظامیہ بھنگ کے خلاف مہم چلاتی ہے تو انتہا پسند اس میں کبھی رکاوٹ نہیں ڈالتے ہیں۔ ’ہم پولیس اور فوج کی مدد سے بھنگ کی کھیتی برباد کرنے جاتے ہیں لیکن انتہا پسندوں کبھی رخنہ نہیں ڈالتے‘۔ اکسائز کمشنر مسعود شمعون کا کہنا تھا کہ انتہا پسند بھی بھنگ کی کھیت کے مخالف ہیں اور ایسی کھیتی کی بربادی سے وہ خوش ہوتے ہیں۔ مسعود کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے انتہا پسندی سے نمٹنے میں مصروف رہتے ہیں اس لیے وہ بھنگ جیسی غیر قانونی کھیتی پر توجہ ہی نہیں دے پاتےہیں۔ پلوامہ ضلعے کے حاجی غلام محمد پاری بھنگ کے خلاف ایک مدت سے مہم چلارہے ہیں۔ انکا کہنا تھا ’میں برسوں سے پولیس سے کہتا رہا ہوں کہ بھنگ کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے لیکن ہماری تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہیں‘۔ مسعود شمعون کا کہنا ہے کہ کئی برس بعد گزشتہ سال اکسائز ڈیپارمنٹ نے بھنگ کے خلاف آپریشن شروع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کارروائی کے لیے ڈیپارمنٹ کے پاس پیسے بھی نہیں تھے لیکن تقریبا چھ سو ایکڑ بھنگ کی فصل تباہ کردی گئی تھی۔ مسٹر شمعون کا کہنا ہے کہ بھنگ کی کھیتی برباد کرنے کے لیے پولیس اور دوسری اداروں سے تعاون بھی کم ملتا ہے۔ لیکن اب اسکے خلاف مہم تیز کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں بھنگ کی کھیتی کرنے والے تقریبا ساٹھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ایک شخص کو کرفتار بھی کیا گیا ہے۔ اس معاملے ميں یہ پہلی گرفتاری ہے۔ حاجی غلام محمد کا کہنا ہے کہ بھنگ پیدا کرنے والوں کو سیاسی لیڈروں کی پناہ حاصل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مسجد کے اماموں سے گزارش کی تھی کہ وہ اپنے خطاب میں بھنگ کے خلاف آواز اٹھائیں لیکن ’ کوئی بھی اسکے خلاف نہیں بولا، کیونکہ زیادہ تر لوگ بھنگ کی کاشت میں ملوث ہیں اور اگر امام بھنگ کی کاشت یا چرس سازی کے خلاف آواز اٹھائے گا تو اسے بھی بے دخل کردیاجائیگا‘۔ مسعود شمعون کا کہنا ہے کہ ’سب سے تکلیف دہ چیز یہ ہے کہ جس چیز میں مافیہ ڈان ملوث ہوتے تھے اب وہ عام کسان کا پیشہ بن گیا ہے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||