مزار کہانی: ’چرس، ملنگوں والا نشہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں ہیروئن اور شراب کا عادی تھا اکثر ایسا ہوتا کہ ہم سارے دوست جمع ہوکر مزاروں پر جاتے اور وہاں پر نشہ کرتے۔ دنیا میں کوئی ایسا نشہ نہیں جو میں نے کیا نہ ہو۔ میں نے تقریباً اپنی آدھی زندگی نشے میں گزاری ہے۔ گھروالوں نے کئی جگہوں پر علاج کروایا لیکن میری نشے کی عادت نہیں چھوٹی۔ انگریزوں کے ایک ہسپتال میں بھی ایک مہینہ علاج کروایا لیکن جوں ہی ہسپتال سے فارغ ہوتا دوبارہ نشہ شروع کردیتا۔ جب گھروالوں کی مجھ سے امید ختم ہوئی تو میں گھر سے بھاگ کر کراچی چلا گیا اور وہاں میں نے لوہے کاکام شروع کر دیا۔ میں اکثر اوقات سیون شریف جایا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ سیون شریف کی رنگ ورغن اور تزائن وآرآئش شروع ہوئی تو وہاں پر موجود ملنگوں نے مجھے بھی کہا کہ ہمارے ساتھ کام کرو تو میں وہیں رک گیا۔ تقریباً دو مہینے تک میں نے دربار کی خدمت کی۔ ایک دن میری ملاقات سیون شریف کے گدی نشین سخی باچا سے ہوئی اور ان کو میں نے زندگی کی ساری کہانی سنائی۔ سائیں سخی باچا نے مجھےکچھ ذکر بتائے جس کے مسلسل ورد سے میری زندگی میں تبدیلی آنی شروع ہوئی۔ میں نے سارے نشے چھوڑدیئے اور اب صرف چرس پیتا ہوں۔ یہ تو ملنگوں والہ نشہ ہے اسے میں نہیں چھوڑ سکتا۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں تو یقین نہیں آتا کہ میں نے ہیروئن جیسی لعنت کیسے چھوڑی؟
میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب اللہ تعالی کا فضل اور اولیاء کرام کی دعاؤں کا اثر ہے۔ اب میں واپس لنڈی ارباب آگیا ہوں اور یہیں رہتا ہوں۔ میں حضرت امیر غازی بابا یا دانتوں والے بابا کا بھی مرید ہوں۔ بابا کا مزار ہمارے گھر کے نزدیک واقع ہے صبح سویرے نماز پڑھنے کے بعد میں پہلے بابا کے سلام کےلیے جاتا ہوں۔ مزار پر صفائی کرتا ہوں پودوں کو پانی دیتا ہوں پھر شام کو بھی ایک چکر لگاتا ہوں میں دن میں دو تین بار بابا کے سلام کے لیےجاتا ہوں۔ امیر غازی بابا کے مزار کے کرامات یہ ہیں کہ یہاں پر کوئی مقبرے کے نزدیک چوری یا دوسرا غلط کام نہیں کرسکتا۔ پہلے یہاں پر اس طرح کے کئی واقعات ہوئے ہیں کہ چور ڈاکو وردات کرکے مزار کے نزدیک گزرتے تو انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ تا یا تو وہ زمین میں دھنس جاتے یا گاؤں والوں کو چوری کے بارے میں معلوم ہوحاتا اور وہ پکڑے جاتے۔ میرا ایک چھوٹا سا گھر ہے جو میں نے کرائے پر دیا ہوا ہے جبکہ میں خود دوستوں کیساتھ رہتا ہوں۔ میری عمر چالیسں سال ہو گئی ہے لیکن میں نے ابھی تک شادی نہیں کی۔ میرا ایک بھائی اور چھ بہنیں ہیں جن کی شادیاں ہوچکی ہے میں نے اس لیے شادی نہیں کی۔ پہلے میں نے بہنوں کی شادیاں کروائیں اور اب اپنی شادی کے بارے میں سوچوں گا۔ لوگوں کی بڑی بڑی خواہشات ہوتی ہیں لیکن میری کوئی بڑی آرزو نہیں میں تو ملنگ آدمی ہوں اور ملنگی میں خوش ہوں۔ صرف اتنا چاہتا ہوں کہ اولیاء کرام کے ساتھ جو لگاؤ ہے بس یہ قائم رہے۔ ہم ہر سال غازی بابا کے مزار پر عرس کرتے ہیں بابا جی کے سرحد کے علاوہ پنجاب میں بھی مرید ہیں۔ عرس کا انتظام ایک مقامی کمیٹی کے سپرد ہے جس میں ، میں بھی شامل ہوں۔ مقامی سطح پر مخیر حضرات ہیں جو عرس کے انتظامات کےلیے پیئسے دیتے ہیں۔ عرس کے موقع پر بڑا مزا اتا ہے یہاں پر ایک جشن کا سماں ہوتاہے رباب اور قوالی کی محفلیں ہوتی ہیں۔ اکثر لوگ مزاروں پر جانے کو اچھا نہیں سمجتھے۔ اب وہ زمانہ نہیں جب لوگ قبروں کو سجدے کرتے تھے۔ دنیا بڑی ترقی کرگئی ہے لوگوں کا رحجان تصوف کی جانب کم ہوتا جارہاہے۔ سائنسی ایجادات اور تعلیمی ترقی نے دنیا کے ہر چیز کو اتنا جدید بنادیا ہے کہ پرانے قصے کہانیاں اور روایات ختم ہوکر رہ گئے ہیں اب لوگ بالخصوص نوجوان نسل ہر چیز کا ثبوت مانگتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ تصوراتی زندگی ختم ہوگئی ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ اولیاء اور صوفیاء تو اللہ تعالی کے برگزیدہ اور پسندیدہ بندے ہیں اور ہم بھی اسی تصور کو لیے ہوئے ان کے درباروں پر جاتے ہیں کہ ہوسکتا ہے اللہ تعالی کو ہمارا کوئی عمل پسند آئے اور ہماری بھی مغفرت کردے۔ تصوف کی اپنی ایک اہمیت ہے اور یہ کبھی ختم نہیں ہوسکتی جو لوگ ان سے لگاؤ رکھتے ہے ان کے لیے یہ ایک راہ ہے اور ہمیشہ سے رہے گا۔ نوٹ: عبدالستار نے اپنی یہ کہانی ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے گفتگو کے دوران سنائی۔ اگر آپ بھی ایسے یا اس سے ملتے جلتے حالات سے گزرے ہوں تو اپنی کہانی ہمیں براہ راست بھیج سکتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام شائع نہیں کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||