’ کرسی انگریز سے چمٹ گئی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرا تعلق ہنگو سے ہے جو صوبہ سرحد کا ایک جنوبی ضلع ہے اور صوبائی دارالحکومت پشاور سے تقریباً ایک سو بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ نذیر بابا ضلع ہنگو کے ایک جلیل القدر ولی گزرے ہیں۔ وہ میرے چچا تھے اور ان کا انتقال انیس سو چالیس میں ہوا تھا۔ آجکل میں نذیر بابا کے مزار کا خدمت گار ہوں اور مقبرے پر صفائی ستھرائی اور دیگر امور کا خیال رکھتا ہوں۔
نذیر بابا کی چائے کی چینک پورے ضلع ہنگو میں بہت مشہور ہے۔ ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ بابا کے ڈیرے پر صبح سویرے ان کے مرید چائے بنانے کے بعد کیتلی یا چینک پیر صاحب کے سامنے رکھتے، پیر صاحب دم پڑھ کر کیتلی پر پھونک مارتے جس کے بعد لوگ سارا دن چینک سے چائے پیتے لیکن اس میں کوئی کمی واقع نہ ہوتی۔ یہ بابا کے ڈیرے کی سب سے بڑی کرامت تھی۔ دوسرا واقع یہ ہے کہ برطانوی دور میں بابا کے کسی مرید نے ایک انگریز اسسٹنٹ کمشنر کے بنگلے سے پھول توڑے جب انگریز نے دیکھا تو انہیں گرفتار کروا دیا۔ نذیر بابا کو پتہ چلا تو جیل پہنچے جس پر انگریز نے ان کے گرفتاری کا بھی حکم دیا۔ پولیس نے بابا کو ہتھکڑیاں لگانے سے صاف انکار کر دیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ اللہ کا ولی ہے۔ پھر بابا نے خود پولیس والوں کو کہا کہ وہ انگریز کا حکم بجا لائیں۔ جب بابا کو ہھکڑی لگائی جاتی تو وہ خود بخود کھل جاتی۔ انگریز افسر نے یہ ماجرا دیکھا تو حیران ہوا اور حکم دیا کہ بابا کو کسی قیمت پر نہ جانے دیا جائے۔ وہ انگریز افسر جب اپنے دفتر میں کرسی پر بیٹھا تو کرسی اس سے چمٹ گئی۔ اب وہ اٹھتا تو کرسی اس کے ساتھ چمٹی رہتی اور زور لگانے کے باوجود علیحدہ نہ ہوتی۔ آخر اس نے دفتر کے سٹاف کو بلایا اور میٹنگ کی۔ سب نے مشورہ دیا کہ یہ کرسی نذیر بابا ہی ہٹا سکتے ہیں جس کے لیے آپ کو ان سے معافی مانگنی ہوگی۔ بابا کو بلایا گیا اور انہوں نے انگریز کو پیھچے سے ایک لات ماری جس سے کرسی اس سے علیحدہ ہوگئی۔ انگریز نذیر بابا سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے اسلام قبول کر لیا اور اس کی بیوی بھی مسلمان ہوگئی۔ دونوں نے بعد میں بابا سے قران پاک بھی سیکھا۔ بابا کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی ان کی صرف ایک بیٹی ہے جس کی شادی ہوچکی ہے۔ بابا ہمارے خاندان میں ساتویں ولی تھے تاہم ان کی وفات کے بعد ہمارے خاندان میں یہ سلسلہ اب بند ہوتا نظر آ رہا ہے۔ دراصل ہم اپنے اصل راستے سے ہٹ گئے ہیں۔ ہم دین کی بجائے دنیاؤی کاموں میں لگ گئے ہیں اور دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ میں کئی سال دوبئی میں بھی رہا ہوں۔ میرے نو بیٹے بیٹیاں ہیں جو مختلف سکول اور کالجوں میں زیر تعلیم ہیں۔
نذیر بابا کے مزار پر روزانہ دور دراز کے علاقوں سے درجنوں کی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔ بابا نے وصیت کی تھی کہ ان کے مزار پر کوئی عرُس نہیں ہوگا۔ مقامی لوگوں نے کئی مواقع پر ہم سے اصرار کیا کہ وہ بابا کے مقبرے پر عرُس کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم نے انہیں اجازت نہیں دی۔ اصل میں مزاروں پر جو روایتی قسم کے مشغلے ہوتے ہیں مثًلا رباب کے محفلیں، چرس پینا اور قوالیاں وغیرہ ہم اس کے سخت خلاف ہیں اور ویسے بھی ضلع ہنگو میں اس قسم کی سرگرمیاں ممکن نہیں کیونکہ یہ ضلع تبلیغی جماعت کا گڑھ ہے اور وہ لوگ اس قسم کی چیزوں کے انتہائی خلاف ہیں۔ اگرچہ اس پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن تبلیغی جماعت کی کوششوں کے سبب ہنگو میں مزاروں پر جانے کا رواج کافی حد تک کم ہوگیا ہے۔ نوٹ: سید اقبال حسین نے اپنی یہ کہانی ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے گفتگو کے دوران سنائی۔ اگر آپ بھی ایسے یا اس سے ملتے جلتے حالات سے گزرے ہوں تو اپنی کہانی ہمیں براہ راست بھیج سکتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام شائع نہیں کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||